30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خالد نے اگر بے اذن عابدہ قبضہ کیا جب تو ظاہر ہے کہ وہ قبضہ ناجائز تھا،اور بعد تقاضا ہر بار اس سے روکے رہنا ظلم برظلم،اور اگر ابتداء قبضہ باذن بھی تھا،تو طلب ٹالے بالے حیلے حوالے نے اسے قبضہ ظلم وتعدی کردیا،بہر حال اب چوری ہوجانا یا خود خرچ کرلینا،دونوں کاحکم یکساں ہوگیا کہ تاوان لازم ہے۔ ہدایہ میں ہے:
|
الودیعۃ امانۃ فی یدالمودع اذا ھلکت لم یضمنہ فان طلبہا صاحبہا فمنعہا وھو یقدر علی تسلیمہا، ضمنہا، لانہ متعد بالمنع،وھذا لانہ لما طالبہ لم یکن راضیا بامساکہ بعدہ فیضمنھا بحبسہ عنہ [1]اھ ملتقطا۔ |
ودیعت مودع کے پاس امانت ہوئی جب ہلاك ہوجائے تو ضمان نہ ہوگا،ہاں اگر مالك نے واپس لینے کا مطالبہ کیااور مودع نے دینے سے انکار کیاحالانکہ دینے پر قادر تھا تو ہلاك ہونے پر ضامن ہوگا کیونکہ انکار پر وہ ذمہ دار ٹھہرا یہ اس لئے کہ جب مالك نے واپسی کا مطالبہ کیا تو اس کے بعدوہ اس کے پاس رکھنے پر راضی نہ تھا تو وہ روکنے پر ضامن ہوجائے گا اھ ملتقطا۔(ت) |
فقیر کہتا ہے غفرالله تعالی لہ:
|
فانقلت ھذا ظاہر فیما اذا کان قبض خالد باذن عابدۃ،فانہ حینئذ تکون یدہ یدہا،فاذا منعہا فقد ازال یدامحقۃ واثبت مبطلۃ ولوحکما،فکان غاصبا و الغصب یضمن ہالکا اومستہلکا امااذ قبض ابتداء بعد موت المورث من دون اذن الورثۃ ولا سبق قبض لہم فلم یوجد ازالۃ ید محققہ،وان ثبت اثبات مبطلۃ ولاغصب |
اگر تیرا یہ اعتراض ہوکہ یہ اس وقت ظاہر ہے جب خالدنے عابدہ کی اجازت سے قبضہ کیا تو خالد کا قبضہ عابدہ کا قبضہ قرار پایا توجب خالد نے عابدہ کو دینے سے انکار کردیا تو اب یہ قبضہ حق نہ رہا بلکہ ناحق ہوگیا اگرچہ ناحق ہونا حکما ہے تو یوں وہ غاصب بن گیا جبکہ غاصب خودہلاك کرے یاا س سے ہلاك ہوجائے دوونوں صور توں میں ضمان واجب ہوتاہے لیکن موت کے بعد قبضہ کو ورثاء کی اجازت حاصل نہیں۔اور نہ ہی ان کو پہلے قبضہ حاصل تھا،تو اب موت کے بعدقبضہ سے رہنا برحق قبضہ زائل نہ ہوا،اگر چہ یہ ناحق قبضہ ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع