30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مارپیٹ کی،اس پر بکر نے اپنا سرجھکا یا تاہم وہ بازنہ آئے،او رعمرو اپنے آپ کو متقی تصور کرتاہے۔اوراہل محلہ کے لوگ بھی ایسا ہی قرار دیتے ہیں،اس وجہ سے سے یہ سوال قائم کرکے علمائے کی خدمت میں یہ التماس ہے کہ شاید حکم شریعت کو سن کر عمرو اپنے کئے ہوئے فعل پر نادم ہو،ا وربکر کے ساتھ آئندہ کچھ زیادتی نہ کرے،او رحکم شرعی زید وعمرو ہمراہیان کے مع تفصیل علیحدہ علیحدہ تحریر فرمائے۔بینوا توجروا
الجواب:
صور ت مستفسہر میں عمروا ور اس کے ساتھی سب ظالم اور مرتکب کبیرہ ومستحق عذاب شدید ہیں، رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من اخذ الارض شیئا بغیر حقہ خسف بہ یوم القیمۃ الی سبع ارضین۔رواہ البخاری[1] عن ابن عمرر ضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ |
جوشخص زمین میں سے کچھ ٹکڑا ناحق دبالے قیامت کے دن وہ ساتویں زمین تك دھنسایا جائے گا۔(اسے بخاری نے ابن عمرو رضی الله تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ت) |
اور فرماتے ہیں صلی الله تعالٰی علیہ وسلم:
|
من اٰذی مسلما فقد اذنی ومن اٰذانی فقد اذٰی اﷲ [2] رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔ |
جس نے کسی مسلمان کو ایذادی ا س نے مجھے ایذادی،جس نے مجھے ایذا دی اس نے الله کو ایذا دی،(اس کوطبرانی نے اوسط میں حضرت انس رضی الله تعالٰی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔(ت) |
تیسری حدیث میں ہے۔فرماتے ہیں صلی الله تعالٰی علیہ وسلم:
|
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم ان ظالم فقد خرج من الاسلام[3]۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن اوس بن شرحبیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
جوکسی ظالم کے ساتھ اس کی مدد دینے کو چلا اور اسے معلوم ہوکہ یہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا(اسے طبرانی نے کبیر میں حضرت او س بن شرحبیل رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع