30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور مطالبہ ظلم سے درگزر کامجاز زید۔ہندیہ میں ہے:
|
لومات وترك عینا ودینا وغصبا فی ایدی الناس ولم یصل شیئ من ذٰلك الی الورثۃ،فالقیاس ان یکون الثواب بذٰلك فی الاٰخرۃ للورثۃ لانہم ورثوامنہ وفی الاستحسان ان توی الدین وتمت التوی قبل الموت فالثواب لہ لان التاوی لایجری فیہ الارث،فان توی بعدہ فالثواب للوارث لانہ لا یجری الارث فیہ لیقامہ وقت الموت،کذا فی الفتاوٰی العتابیۃ [1]۔ |
اگر کسی نے فوت ہونے کے بعد لوگون کے ذمہ قرض،عین چیزیا غصب چھوڑا اور ترکہ میں ورثاء کو وصول نہ ہوئی ہوں تو قیاس یہ ہے کہ ظلم برداشت کرنےکا ثواب ورثاء کو ملے کیونکہ یہ اس میت کے بعد ان اموال کے وارث بنے اورجبکہ استحسان یہ ہے اگر ان اموال کا نقصان مرنے والے کی میت سے پہلے مکمل طور پر واضح ہوگیا توثواب میت کوملے گا کیونکہ نقصان میں وراثت نہیں ہے۔اگریہ نقصان موت کے بعد تام ہوا تو پھر ثواب ورثاء کو ملے گا کیونکہ ان میں وراثت جاری ہوئی ہے اس لئے کہ موت کے وقت یہ اموال میت کی ملکیت تھے۔فتاوٰی عتابیۃ میں یوں ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
سرق شیئا من ابیہ ثم مات ابوہ لم یؤاخذ بہ فی الاخرۃ لان الدین وھو ضمان المسروق انتقل الیہ و اثم بالسرقۃ لان حتی علی المسروق منہ کذا فی الفتاوٰی العتابیۃ،رجل لہ علی رجل دین فتقاضاہ فمنعہ ظلما حتی مات صاحب الدین وانتقل الی الوارث، تکلموا فیہ،قال اکثر المشائخ لایکون حق الخصومۃ للاول۔لکن المختار ان |
کسی نے اپنے والد کی کوئی چیز چرائی پھر والد فوت ہوگیا تو آخرت میں اس پر ضمان کا مؤاخذہ نہ ہوگا کیونکہ چیز مسروقہ جس کا ضمان تھا وہ وراثت میں بیٹے کو منتقل ہوچکی ہے اور چوری پر گنہگار ہوگا اس لئے کہ اس نے وقت کے مالك کا جرم کیا ہے۔یہ فتاوی عتابیہ میں ہے ایك شخص کا دوسرے پر قرض تھا تو مالك نے کسی کو قرض وصول کرنے کے لئے بھیجا تو مقروض نے ادائیگی سے انکار کردیا پھر وہ مالك فوت ہوگیا اور وہ قرض ورثاء کو منتقل ہوگیا تو اس مسئلہ میں فقہاء کا کلام ہے۔اکثر مشائخ نے فرمایا ہے کہ مالك کے مقررکردہ پہلے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع