30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مزارعین کو اذن عرفی تھا۔
دوسرے یہ کہ محض بلااذن بطور خود بکر نے لگالئے۔
پہلی صور ت میں درخت مطلقا زید کی ملك ہوں گے مگر یہ کہ خود اذن مذکور کا مطلب ہی یہ ہوا کہ لگانے والا مالك ہوں،مثلا اذن عرفی میں عرف ہی یوں تھا یا اذن صریح میں لفظ یہ تھے کہ اپنے لئے لگالو،تو اس صورت میں درخت ملك بکر ہوں گے،اور زمین عاریت،یایہ کہ بکر نے برخلاف مطلب اذن لگاتے وقت یہ کہہ لیا کہ میں خود اپنے اس صورت میں درخت ملك بکر ہوں گے اور وہ بوجہ مخالفت اذن ظالم وغاصب کہ فورا درخت اکھیڑ کر زمین خالی کردینے کا حکم دیا جائے گا۔اور دوسری صورت میں یعنی جبکہ بے اذن مالك رکھے گئے،درخت مطلقا ملك بکر ہوں گے،اور وہ غاصب قرار پائے گا۔مگر یہ کہ رکھتے وقت اس نے کہہ دیا ہو کہ زید کے لئے لگاتاہوں،اس صورت میں ملك زید ہوں گے۔اور بکر کا کوئی دعوی نہیں۔
|
ھذا جملۃ الحکم فی ذٰلك وتعرف تفاصیل المسألۃ من شتی التنویر،والدر،وحواشیہ،ووقف الاشباہ۔ و شروحہ۔وغصب الہندیۃ وغیرھا من الکتب المعتمدۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اس کا یہ خلاصہ حکم ہے،اور تنویر الابصارمیں کے مسائل شتٰی،درمختار اور اس کے حواشی،اور الاشباہ کے وقف او راس کی شرح،اور ہندیہ کے باب غصب وغیرہ معتبر کتب میں اس کی تفاصیل تجھے معلوم ہوں گی۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۶۴: ۲۲ شوال ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اراضی مسجد کی جو اس کے پیچھے تھی اپنے مکان میں ڈال لی ہے اور دیوار بنوالی،اور تاج محراب مسجد ومینار مسجد دباکر اپنی دیوار بلند کرلی،ایسے شخص کے واسطے کیاحکم شرع شریف ہے ؟ فقط
الجواب:
فاسق،فاجر،ظالم،جابر،مرتکب کبائر،مستحق عذاب النا ر وغضب الجبار ہے۔والعیاذبا لله تعالٰی،رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لایأخذ احد شبرا من الارض بغیر حقہ الاطوقہ اﷲ الی سبع ارضین الی یوم |
جو شخص ایك بالشت بھر زمین ناحق لے گا الله تعالٰی وہ زمین زمین کے ساتوں طبقوں تك اس کے گلے میں قیامت کے دن تك طوق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع