30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
سائل مظہر کہ زید وعمرو کی پٹیاں جدا جدا ہیں،او ر عمرو نے اپنی پٹی کے پٹے اسامیوں کو خود دئے،اور آپ تحصیل کرتارہا۔چند سال سےبکر ٹھیکہ دار حقیت زید نے اپنے دباؤ کے سبب عمرو کی پٹی بھی تحصیل لی،اس صورت میں عمرو کا مطالبہ حقیقۃ اپنے اسامیوں پر ہے کہ انھوں نے غیر شخص کو اس کا آتا ہوا کیوں دے دیا،اور بکر نے بوجہ اس زیادہ ستانی کے ظلم کیا مگر زید کی طرف سے کوئی تعدی نہیں۔نہ اس پر عمرو کا مطالبہ تھا،نہ اس نے اسامیوں سے اس کا حق تحصیل لیا،نہ عمرو کے کوئی خاص معین روپے اسامیوں کے پاس رکھے تھے وہ بکر نے اسن سے لے کر زید کو دے دئے۔تو زید اس مطالبہ سے بالکل بری ہے،اس کی ڈگری محض بیجا ہوئی عمرو کو اس سے کچھ لینا جائز نہیں۔
|
قال اﷲ تعالٰی " وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ "[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا:کوئی بوجھ اٹھانے والی دوسرے کا بوجھ نہ آٹھائے گی،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۶۳: از شہر کہنہ ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ زید ایك موضع کا مالك ہے۔اور بکر زید کی رعایا،گاؤں میں زمین جوتتا ہے اور لگان زید کو دیتاہے،اور کچھ زمین اور اس گاؤں میں بے لگانی ہے۔اس میں بکر نے چند درخت لگائے ہیں اور پھل کھاتاہے۔اور ان درختوں پر زید اس سے کچھ لگان نہیں لیتاہے۔اور حاکم وقت نے بھی یہی حکم جاری کررکھا ہے کہ زمین کا مالك جو ہے وہی درختوں کا مالك ہے صرف پھل پھول کھانے کا بکر کو اختیار ہے اور بکر کو اختیار ہے۔اور بکر نے بلااجازت زید کے مخالفانہ ان درختوں کو خالد کے ہاتھ فروخت کردیا،زید نے بکر او رخالد پر نالش کی کہ بکر کو بیچنے کا منصب نہیں تھا،اور یہ بموجب حکم حاکم فاسد ہے۔حاکم نے وہ درخت زید کو دلادئے،اور یہ بھی حکم دیا کہ خالد اپنے روپے کا دعوٰی بکر پر کرے،تو اس صورت میں دراصل وہ درخت حق زید کے ہیں یا بکر کے یاخالد کے؟ بینوا توجروا
الجواب:
یہاں دو صورتیں ہیں:ایك یہ درخت بکر نے باذن واجازت زید لگائے،خواہ یوں کہ زید نے صراحۃ خاص بکر،سب سکان دیہہ کو عام اذن دیا،خواہ یوں کہ حسب عرف رواج دیہہ ملاك کی طرف سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع