30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعمیر مساجد وغیرہا میں اٹھائے،اور قرض اس ناپاك مال سے ادا کردے اگرچہ یہ صورت ان تصرفا ت کے جائز ہونے میں توبکار آمد ہےکہ اب یہ روپیہ جو ان کاموں میں اٹھارہا ہے ناپاك نہیں۔
|
فی الہندیۃ عن الملتقط اٰکل الربٰو اوکاسب الحرام اھدی الیہ اواضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل مالم یخبرہ ان ذٰلك المال اصلہ حلال ورثہ او استقرضہ [1]اھ مثلہ عن الینابیع۔ |
ہندیہ میں ملتقط سےمنقول ہےکہ حرام کمانے والا یاسودخور ہدیہ دے یا دعوت کرے تو قبول نہ کرے جبکہ اس کا غالب مال حرام ہو اور کھائے نہیں جب تك وہ وضاحت نہ کرے کہ یہ اصل مال میں نے وراثت یا قرض میں حلال حاصل کیا ہے۔اھ اس کی مثل ینابیع میں ہے۔(ت) |
مگر اس حیلہ سے نہ وہ گناہ اس سے زائل ہو نہ اس ناپاك مال کا وبال سرسے اُترے،نہ اس سے فرض ادا کرنا روا،بلکہ یہ دوسرا گناہ ہوا کہ حکم شرع تو اصحاب حقوق کو واپس دینا یاتصدق کرنا تھا،اس نے کچھ نہ کیا بلکہ اپنی ادائے قرض میں لگادیا،تو ثابت ہوا کہ خبیث مال والوں کو یہ حیلہ نافع نہیں بلکہ مضر وموجب گناہ ہے۔
|
فان قلت الیس قال فی الہندیۃ الحیلۃ فی ھذہ المسائل ان یشتری نسیئۃ ثم ینقد ثمنہ من ای مال شاء،وقال ابویوسف سألت اباحنیفۃ عن الحیلۃ فی مثل ھذا فاجانبی بماذکرنا کذا فی الخلاصۃ [2] اھ، و انما الحیلۃ لتحصیل الجواز۔قلت انما قال فی اموال الشبھۃ کالجواز السلطانیۃ ای حیث |
اگر تو اعتراض کرے کہ کیا ہندیہ میںیہ بیان نہیں ہے کہ ان مسائل میں حیلہ یہ ہے کہ مال ادھار خریدے اور پھر بعد میں معاوضہ کسی بھی مال سے چاہے دیدے۔اور امام ابویوسف رحمہ الله تعالٰی نے فرمایا کہ میں نے امام ابوحنیفہ رضی الله تعالٰی عنہ سے ان مسائل کے متعلق حیلہ پوچھا تو انھوں نے جواب میں وہی فرمایا جوہم نے ذکر کیا،خلاصہ میں یوں ہے اھ،اور جبکہ حیلہ صرف جواز کو طلب کرنے کے لئے ہوتاہے۔ جواب کے طور پر میں کہتاہوں،یہ مذکورقول انھوں نے مشتبہ مال میں فرمایا ہے جیسے سرکاری عطیات |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع