30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ معلوم ہوں تو تصدق کردے اس کے سوا جس کام میں صرف کیا جائے گا خلاف حکم شرع وموجب گناہ ہوگا۔ہاں یہ دوسری بات ہے کہ حج کرلیا تو فرض ذمہ سے اتر گیا،جیسے چوری اور غصب کے کپڑے سے نماز پڑھنا،فان الخبث انما ھوفی المجاورفلا یمنع الصحۃ (کیونکہ خبث یہاں بعد میں لاحق ہوا جو صحت کو مانع نہیں ہے۔ت)پھر بھی اس پر امید ثواب کا محل نہیں بلکہ اسے کہا جائے گا لا لبیك ولا سعد یك وحجك مردود علیك حتی ترد مافی یدیك نہ تیرے لبیك قبول نہ خدمت قبول اور تیراحج تیرے منہ پر ماراگیا یہاں تك کہ تو یہ ناپاك مال جو تیرے ہاتھ میں ہے واپس دے۔
|
نسأل اﷲ العفوو العافیۃ ھذا ماجزمت بہ لظہورہ ظہورا بینا ثم اتفق مراجعۃ ردالمحتار فرأیت فیہ التصریح بذٰلك کلہ حیث قال فی بیان الحض بمال حرام،الحج نفسہ لیس حراما بل الحرام ھو انفاق المال الحرام ولاتلازم بینہما کما ان الصلٰوۃ فی الارض المغصوبۃ تقع فرضا،وانما الحرام شغل المکان المغصوب،وقال فی البحر یجتہد فی تحصیل نفقۃ حلال فانہ لا یقبل بالنفقۃ الحرام،کما وردفی الحدیث مع انہ یسقط الفرض عنہ معہا ولاتنا فی بین سقوطہ وعدم قبولہ فلا یثاب لعدم القبول ولا یعاقب عقاب تارك الحج [1] اھ مختصرا۔ |
ہم الله تعالٰی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں اس کے بالکل ظاہر ہونے پر مجھے جزم حاصل ہوا،پھر مجھے اتفاقا رد المحتار پر مراجعت ہوئی تو میں نے اس میں اس تمام پر تصریح پائی انھوں نے مال حرام سے حج کے متعلق فرمایا حج فی نفسہٖ حرام نہیں بلکہ حرام مال کا اس میں صر ف کرنا حرام ہے جبکہ ان دونوں باتوں میں تلازم نہیں ہے۔جیسا کہ مغصوبہ زمین پر نماز پڑھنے سےفرض ادا ہوجائے گاحرام صرف مغصوب زمین کو استعمال کرنا ہے۔ار بحر میں فرمایا حلال نفقہ میں کوشش ضروری ہےکیونکہ حرام نفقہ سےحج قبول نہ ہوگاجیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔اس کے باوجود فرض ادا ہوجائے گا۔اور فرض کی ادائیگی اور عدم قبولیت منافات نہیں ہے۔تو قبول نہ ہونے کی وجہ سے ثواب نہ پائے گا۔اور فرض اد اہوجانے کی وجہ سے حج کا تارك ہوکر عذاب کا مستحق نہ ہوگا اھ مختصرا(ت) |
اور تبدیل اس طرح سے کہ کسی سے قرض لے کر اپنے خرچ میں لائے،خواہ حج وتصدق ونذر ونیاز و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع