30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علماء فرماتے ہیں۔جو حر ام مال فقیر کو دے کر ثواب کی امید رکھے اس پر کفر عائد ہو۔والعیاذبالله تعالٰی۔فتاوی ظہیریہ میں ہے:
|
رجل دفع الی فقیر من المال الحرام شیئا یرجوا بہ الثواب یکفر [1]۔ |
ایك شخص نے فقیر کو حرام مال دیا اور اس پر اس نے ثواب کی امید رکھی توکافر ہوجائے گا۔(ت) |
اقول: وبالله التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالٰی سے ہے۔ت)تحقیق مقام یہ ہے کہ اگر اس نے اس مال حرام کو اپنی ملك خاص جان کر بطور تبرع تصدق کیا جیسے مسلمان اپنے پاکیزہ مال کو بہ نیت نفل وتطوع تقربا الی اﷲ صدقہ کرتا اور اس پر اپنے رب کریم سے امید ثواب رکھتاہے کہ بے ایجاب شرع اس نے اپنی خوشی سے اپنے پاك مال کا حصہ اپنے رب کی رضا کے لئے صرف کیا،جب تویہ تصرف حکم شرع سے جدا،ا ور یہ خیال شرع مطہر کے خلاف ہے۔اور اس پر ہر گز اس کے لئے ثواب نہیں،اسی کی بعض صورتوں میں فقہاء نےحکم تکفیر کیا،اور اگریوں نہ تھا بلکہ اس مال کو خبیث وناپاك ہی جانا اور اپنے گناہ پرنادم ہوکر تائب ہوا اور بحکم شرع اپنے تصرف میں لانا ناجائز سمجھا،اور اپنے نفس کو اس میں تصرف سے روکا اور ازاں جاں کہ اس کے ارباب معلوم نہ رہے بجاآوری حکم شرع کے لئے اسے تصدق کیا،اور اسی بجاآوری فرمان پر امید وثواب ہوا،تو بیشك اس میں اصلا حرج نہیں،بلکہ اسی کااسے شرعاحکم تھا،اور اس تصدق پر اگر چہ ثواب صدقہ نہیں،مگر اس امتثال حکم کا ثواب بیشك ہے۔بلکہ یہ فعل اس کی توبہ کاتتمہ ہے۔اور توبہ قطعا موجب رضائے الٰہی وثواب اُخروی ہے۔پھر جس عمل پر آدمی خود ثواب پائے اس ثواب کو دوسرے مسلمانو ں کو بھی پہنچا سکتاہے۔لعموم قولہم ان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ(ان کے اس قول کے عموم کی وجہ سے کہ انسان کو اپنے عملك کا ثواب غیر کے لئے کرنے کا حق ہے۔ت)تو اس توبہ وبجاآوری حکم کا ثواب اگر نذر بزرگاں کریں کچھ مضائقہ نہیں۔
|
ھذا ھو التحقیق واﷲ ولی التوفیق اتفن ھذا افلعلك لا تجدہ فی غیرہ ھذا السطور۔ |
یہ تحقق ہے اور الله تعالٰی ہی توفیق کا مالك ہے۔اس کو مضبوط کر،ہوسکتاہے تجھے ان سطور کے غیر میں نہ ملے۔(ت) |
اور اس مال سے حج کرنا بھی جائز نہیں کہ اسے حکم تویہ تھا کہ جن سے لیا انھیں واپس دے۔وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع