30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان الثوب لغیرہ فکیف یحل لك لبسہ و تمبلکہ بمعاوضۃ جرت بینك وبین من لایملك من دون اجازۃ من الملك ھذ امما لایتصور،فلیتأمل ولیحرر |
غیرکاکپڑا ہے تو پھر تجھے کیسا پہننا اور فروخت کرنا جائز ہوسکتاہے جبکہ تیرے اور غیر مالك کے درمیان جو معاوضہ طے ہوا ہے وہ اس کے مالك کی اجازت کے بغیر ہوا ہے۔یہ غیر متصور معاملہ ہے غورکرواور واضح کرو۔(ت) |
اور جبکہ اس نے دھوبی سے لیا اور دھوبی باذن مالك ہوتاہے،تو اس کے لئے گری پڑی بے وارث چیز کا حکم نہیں ہوسکتا کہ محتاج کو دے سکے،بلکہ گاذر ہی کو واپس دے،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۱: از اوجین مکان میرخادم علی اسسٹنت مرسلہ ملاحاجی یعقوب علی خاں ۲۱ ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کے نزدیك تمام و کمال روپیہ از قسم سود ورشوت ہے۔تو اس قسم کے اموال پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہے یانہیں؟ اور ایسے مال وزر سے اقسام نیاز بزرگان وادائے حج درست ہے یاممنوع؟ اور اس روپیہ کی تبدیل کی صورت ہوسکتی ہے یانہیں؟ بیان فرمائیں بعبارت کتب،رحمۃ الله علیہم اجمعین۔
الجواب:
سود ورشوت او راسی قسم کے حرام وخبیث مال پر زکوٰۃ نہیں کہ جن جن سے لیا ہے اگر وہ لوگ معلوم ہیں تو انھیں واپس دینا واجب ہے۔اور اگر معلوم نہ رہے تو کل کا تصدق کرنا واجب ہے۔چالیسواں حصہ دینے سے وہ مال کیا پاك ہوسکتاہے جس کے باقی انتالیس حصے بھی ناپاك ہیں،درمختارمیں ہے:
|
لازکوٰۃ لوکان خیبثاکما فی النہر من الحواشی السعدیۃ [1]۔ |
اگرتمام مال خبیث ہو تو اس پر زکوٰۃ نہ ہوگی جیسا کہ نہر میں حواشی سعدیہ سے منقول ہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
مثل فی الشرنبلالیۃ وذکرہ فی شرح الوھبانیۃ بحثا، وفی الفصل العاشر من التاترخانیۃ عن فتاوی الحجۃ، من ملك اموالا غیر طیبہ لازکوٰۃ علیہ |
ایسا ہی شرنبلالی میں ہے،اس کو شرح وہبانیہ میں بحث کے طور پر ذکر کیا ہے اور تاتارخانیہ کی دسویں فصل میں فتاوی الحجہ سے منقول ہے کہ جوشخص غیر حلال مال کا مالك بنا اس پر اس مال |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع