30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کما فی الخانیۃ والہندیۃ وغیرہما وقد قال اﷲ تعالٰی " اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجٰرَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمْ ۟ "[1]. وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایحل لمسلم ان یاخذ عصا اخیہ بغیر طیب نفس منہ،قال ذٰلك لشدۃ ماحرم اﷲ من مال المسلم علی المسلم،رواہ ابن حبان [2] فی صحیحہ عن ابی حمیدی الساعدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ،وفی الخانیۃ والہندیۃ والبزازیۃ، واللفظ لہذہ،اذا قال القصار ھذا ثوبك وقال المالك لیس ھذا ثوبی لایحل لبسہ ولابیعہ فہذا نص المسئلۃ اما ماذکروا عقیبہ من الاستثناء بقولہم الا ان یقول ربہ اخذتہ عوضا عنہ ویقول القصار نعم[3]اھ،فاقول:یجب حملہ علی مااذا علم اوساغان یکون الثوب اللقصار،و قد ذکر فی الخانیۃ وخزانۃ المفتین فروعا،فصلوا فیہا بین مایکون الثوب للقصار اولغیرہ،اما اذا علم۔
|
میں تبدیل ہوجائیں،جیساکہ خانیہ او ہندیہ وغیرہ میں ہے، اور بیشك الله تعالٰی نے فرمایا تجارت صرف رضامندی سے ہو اور رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ دوسرے مسلمان کی چھڑی اس کی رضامند ی کے بغیر لے لے۔آپ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد کسی مسلمان کا مال مسلمان پر شدید حرام ہونے کی وجہ سے ہے۔اس کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں ابوحمید ساعدی رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔اور خانیہ، ہندیہ اور بزازیہ میں بزازیہ کے الفاظ میں،جب دھوبی نے کہا یہ تیرا کپڑا ہے اور مالك کہے یہ میرا نہیں ہے پھر مالك اپنے کپڑے کے عوض اس کپڑے کو لے تو اس کا استعمال اور فروخت کرنا اس کو جائز نہ ہوگا۔اور یہ مسئلہ میں نص ہے لیکن فقہاء کرام نے اس کے بعد یہ جو فرمایا کہ اگر مالك کپڑے لیتے وقت دھوبی سے پوچھے کہ یہ کپڑا میرے کپڑ ے کے عوض میں ہے اور وہ جوب میں ہاں کہے تو جائز ہوگا اہ،تو میں کہتا ہوں،یہ ان کی بات اس صور ت پر محمول ہے جب مالك کو یقین ہو یا دھوبی یقین دلائے کہ دھوبی کا کپڑا ہے،خانیہ اور خزانۃ المفتین میں مذکور تفصیل ہے تو انھوں نے دھوبی او رغیر کے کپڑے میں فرق کیا ہے لیکن معلوم ہوکہ یہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع