30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور کتنا لیا،وہاں زیادہ سے زیادہ تخمینہ لگائے کہ اس تمام مدت میں کس قدر مال جوئے سے کمایا ہوگا اتنا مالکوں کی نیت سے خیرات کردے،عاقبت یونہی پاك ہوگی،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۹:
|
چہ فرمایند علمائے ومفتیان شرع متین درحق کسیکہ بحیلہ ومکر از دوست خود زرگرفت،و گفت کہ اگر نہ دہی ایں مضرت بتورسانم،یا برائے رنجا نیدن خلق اﷲ واظہار غلبہ،وصولت خود باشخصے بزرگ ومعززدوستی کرد،تاکہ خلائق ازیں کس بہ تعلق آں شخص بزرگ بہ تر سند۔بینوا توجروا۔
|
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ایسے شخص کے متعلق جو حیلہ اور مکر کے ساتھ دوست سے مال وصول کرتا ہے اور کہتاہے کہ اگر نہ دے گا تو تجھے فلاں پریشانی میں مبتلا کروں گا۔یا وہ شخص الله تعالٰی کی مخلوق کو تنگ کرتاہے اپنا غلبہ اور دبدبہ قائم کرنے کے لئے کسی معزز اور بڑے آدمی سے دوستی بتاتا ہے تاکہ اس کے تعلق سے لوگ اس سے مرعوب رہیں۔بینوا توجروا(ت) |
الجواب:
|
بمکر وحیلہ ووعید وتہدید بناحق زر از کسے گرفتن حرام قطعی ست،باز اگر ایں بزور ستاند غصب باشد،واگراں بترس مضرت خویش دہد رشوت بود ہر دوحرام وفی النار،ومستوجب غضب جبار قہار ست،والعیاذباﷲ تعالٰی،قال تعالٰی " لَا تَاۡکُلُوۡۤااَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ"[1]الآیۃ۔ورنجانیدن وتر سانیدن خلق اﷲ تجبر و تکبر ہمہ محرمات قطعیہ است،در حدیث ست حضور پر نور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرمایند شَرُّ النَّاسِ مَنْزِلَۃً یَوْمَ الْقِٰیمَۃِ مَنْ یّخَافُ لِسَانہ،
|
مکر وفریب اور ڈرادھمکا کر کسی سے مال لینا قطعی حرام ہے۔ پھر اگر طاقت کے ذریعہ لیتا ہے تو یہ غصب ہے،اوراگر اپنے شر سے ڈراکر لیتا ہے تو رشوت ہوگی جبکہ دونوں طریقے حرام جہنم اور الله تعالٰی کے غضب کے مستوجب ہیں،والعیاذ بالله تعالٰی،الله تعالٰی نے فرمایا:آپس کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ،الآیہ،اور الله تعالٰی کی مخلوق کو تکلیف دینا،ڈرانا اور ان پر اپنا جبر اور تکبر ظاہر کرنا قطعی محرمات میں سے ہے حدیث شریف میں حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا: بدترین مرتبے کا وہ آدمی ہے کہ لوگ اس کی زبان سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع