30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الدرمن السحت مایأخذ مقامر[1].(باختصار) |
درمختار میں ہے:جوئے میں حاصل کیا ہوا مال حرام ہے۔ (باختصار)(ت) |
اور اس سے برائت کی یہی صورت ہے کہ جس جس سے جتنا مال جیتا ہے اسے واپس دے،یا جیسے بنے اسے راضی کرکے معاف کرالے۔وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو واپس دے،یا ان میں جو عاقل بالغ ہوں ان کا حصہ ان کی رضامندی سے معاف کرالے۔ باقیوں کا حصہ ضرور انھیں دے کہ اس کی معافی ممکن نہیں،اورجن لوگوں کا پتہ کسی طرح نہ چلے نہ ان کا،نہ ان کے ورثہ کا،ان سے جس قدر جیتا تھا ان کی نیت سے خیرات کردے،اگرچہ اپنے محتاج بہن،بھائیوں،بھتیجوں،بھانجوں کو دے دے،اس کے بعد جو بچ رہے گا وہ اس کے لئے حلال ہے،عالمگیری میں ہے:
|
کان الاخذ معصیۃ والسبیل فی المعاصی ردہا،وذٰلك ھہنا برد الماخوذ ان تمکن من ردہ،بان عرف صاحبہ، وبالتصدق بہ ان لم یعرفہ [2]۔ |
لینا گناہ ہے اور گناہ کے ازالہ کی صورت اس کو واپس کرنا ہے اور یہاں لئے ہوئے کو ردکرنا ہوگا۔جب واپس کرناممکن ہو کہ اس کے مالك کو جانتا ہو یا پھر معلوم نہ ہو تو صدقہ کرنا ہوگا۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
ان علمت اصحابہ او ورثتہم وجب ردہ علیہم، والا وجب التصدق بہ [3]۔ |
اگر اس کے مالك یا مالك کے ورثاء کو جانتا ہے تو واپس کرناواجب ہے۔ورنہ صدقہ کرنا واجب ہے۔(ت) |
غرض جہاں جہاں جس قدر یاد ہو سکے کہ اتنامال فلاں سے ہار جیت میں زیادہ پڑاتھا اتنا تو انھیں یا ان کے وارثوں کو دے،یہ نہ ہو تو ان کی نیت سے تصدق کرے،اورزیادہ پڑنے کے یہ معنی کہ مثلا ایك شخص سے دس بار جوا کھیلا کبھی یہ جیتا کبھی یہ،اس کے جیتنے کی مقدار مثلا سو روپے کو پہنچی،اور یہ سب دفعہ کے ملا کر سوا سو جیتا،تو سو سو برابر ہوگئے،پچیس اس کے دینے رہے۔اتنے ہی اسے واپس دے،وعلی ھذا القیاس،اورجہاں یاد نہ آئے کہ کون کون لوگ تھے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع