30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مثلا اس کے مورث نے مال غصب کیا تھا،یہ عین مغصوب کو جانتا ہے۔اور مغصوب منہ سے محض ناواقف،یایوں کہ مالك مرگیا او رکوئی وارث نہ رہا،تو ان سب صورتوں میں شرع مطہر اسے تصدق کا حکم دیتی ہے۔جب اس نے صدقہ کیا تو حکم بجالایا، اور فرمانبرداری پر امید ثواب رکھنا محذور نہیں،شرح فقہ اکبر میں ہے:
|
فی المحیط من تصدق علی فقیر بشیئ من الحرام یرجو الثواب کفر،وفیہ بحث لان من کان عندہ مال حرام فہو مامور بالتصدق بہ علی الفقراء فینبغی ان یکون ماجورا بفعلہ حیث قام بطاعۃ اﷲ وامرہ، فلعل المسئلۃ موضوعۃ فی مال حرام یعرف صاحبہ، ویعدل عنہ الی غیرہ فی عطائہ لاجل سمعتہ وریائہ کما کثر ھذا فی ظلمۃ الزمان وامرائہ [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
محیط میں ہے جس نے حرام کا صدقہ کرکے ثواب کی امید کی وہ کافر ہوا،اور اس میں بحث یہ ہے کہ جس کے پاس حرام مال ہو اس کو صدقہ کرنے کا حکم ہے فقراء کو صدقہ کرے تو الله تعالٰی کے حکم اطاعت کرنے پر ثواب کی امید جائز ہے۔ ہوسکتاہے یہ مسئلہ اس صورت میں ہو جس میں حرام مال کو جانتے ہوئے دوسرے کو محض ریاکاری اور شہرت کے لیے دے جیسا کہ آج کل جابر بادشاہ اور امراء حضرات میں کثیر الوقوع ہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۵۷: ۲۸ ذیقعدہ ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ اگر کَسبی یا وہ شخص کہ جس کا مال حرام کا ہو مثل سود خوار وغیرہ کے،اگر وہ کوئی شے مثل لوٹا یا چٹائی یا دری وغیرہ مسجدمیں ڈال دے تاکہ نمازی اس سے وضو کریں یا اس پر نماز پڑھیں،جائز ہے یانہیں؟ اور اس سے اس کے مال کی حرمت آتی ہے یا نہیں اور اس کی خرید بھی دست بدست اور تعین ثمن کے ساتھ نہیں بلکہ چیز کو خرید کر ثمن بعد کو ادا کرتے ہیں۔
الجواب:
اگر رنڈی نے کچھ روپیہ کسی سے قرض لیا اور کسی وجہ سے کوئی حلال مال حاصل کیا اور ان چیزوں کی قیمت میں یہی حلال مال دیا،اور خریدتے وقت بھی مال حرام کی طرف اشارہ نہ کیا تھا،یعنی حرام روپیہ دکھاکر یہ نہ کہا تھا کہ اس کے عوض دے دے،جب تو یہ چیزیں بالاجماع اس رنڈی کی ملك طیب و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع