30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تبعا للدروغیرہ [1]۔ |
کرتے ہوئے اسی کو اپنایا ہے۔(ت) |
پھر جن صورتوں میں وہ کھانا ان دونوں مذہب پر حرام ہے یعنی دو صورت پیشیں،ان میں اگر بسم الله کہہ کر کھایا برا کیا،مگر کافر ہر گز نہ کہا جائے گا،اس کی حرمت ضروریات دین سے ہونا درکنار اجماعی بھی نہیں۔
|
فان من العلماء من قال یحل ابدال مالایتعین مطلقا،لعدم تعلق العقد بعینہ بل بالذمۃ، فلایسوی الخبث وھو القیاس،وعلیہ یبتنی علی مافی فتاوی العلامۃ الطوری عن المحیط،اشتری بالدراہم المغصوبۃ طعاماحل التناول۔ |
علمائے کرام میں سے بعض نے فرمایا کہ غیر متعین طورپر بدلنا حلال ہے کیونکہ عقد حرام متعین پر نہ ہوا بلکہ عقد کا تعلق ذمہ داری سے ہے لہذا خبث دوسرے مال میں سرایت نہ کرے گا یہی قیاس ہے۔اور اسی پر علامہ طوری کے فتوٰی کی بنا ہے،محیط سے منقول ہے کہ غصب کردہ دراہم کے عوض طعام خریدا تو کھانا حلال ہے۔(ت) |
شرح فقہ اکبرمیں ہے:
|
فی التتمۃ من قال عند ابتداء شرب الخمر والزنا و اکل الحرام ببسم اﷲ کفر وفیہ،انہ ینبغی ان یکون محمولا علی الحرام المحض المتفق علیہ وان یکون عالما بنسبۃ التحریم الیہ،بان تکون حرمتہ مما علم من الدین بالضرورۃ کشرب الخمر [2]۔ |
تتمہ میں ہے کہ جس نے شراب پینے،زنا اور حرام کھانے کی ابتداء میں بسم الله پڑھی تو اس میں اس نے کفر کیا تو اس قول کو خالص متفق علیہ حرام پر محمول کرنا چاہئے اور یہ جانتے ہوئے کہ بسم الله سے حرام کی ابتداء کررہا ہے اور وہ حرمت بھی ایسی ہو جس کا علم ضروریات دین میں سے ہو جیسے شراب پینے کی۔(ت) |
اور حرام مال کو صدقہ کرکے امید ثواب رکھنی بھی مطلقا کفر نہیں،اگر وہ چیز عین حرام نہ ہو بلکہ زرحرام کے معاوضہ میں خریدی جب تو ظاہر کہ اس کی حرمت مجمع علیہ بھی نہیں،اور اگر عین حرام ہے اور اسے مالك تك نہیں پہنچا سکتا خواہ اس وجہ سے کہ اسے مالك یادنہ رہا یا سرے سے مالك کو جانتاہی نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع