30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی التتارخانیۃ رجل اکتسب مالامن حرام،ثم اشتری،فہذا علی خمسۃ اوجہ اما ان دفع تلك الدراہم الی البائع اولا ثم اشترٰی منہ بہا،اواشتری قبل الدفع بہا ودفعھا۔اواشتری قبل الدفع بہا ودفع غیرہا،اواشتری مطلقا ودفع تلك الدراہم، اواشتری بدراہم اخر ودفع تلك الدراہم،قال ابو نصر یطیب لہ ولا یجب علیہ ان یتصدق الا فی الوجہ الاول،والیہ ذہب الفقیہ ابواللیث لکن ہذا خلاف ظاہرالروایۃ فانہ نص فی الجامع الصغیر،اذا غصب الفا فاشتری بہا جاریۃ،وباعہا بالفین تصدق بالربح،وقال الکرخی فی الوجہ الاول والثانی لایطیب، وفی الثلاث الاخیرۃ یطیب،وقال ابوبکر لایطیب فی الکل،لکن الفتوٰی الاٰن علی قول الکرخی دفعا للحرج عن الناس اھ،وفی الولوالجیۃ وقال بعضہم لایطیب فی الوجوہ کلہا وھو المختار،ولکن الفتوٰی الیوم علی قول الکرخی دفعا للحرج لکثرۃ الحرام اھ،و علی ہذا مثی المصنف فی کتاب الغصب |
تاتارخانیہ میں ہے کہ کسی نے حرام مال حاصل کیا،اور پھر اس کو خریداری میں صرف کیا تو اس کی پانچ صورتیں ہیں: پہلی یہ کہ یہ حرام دراہم بائع کو دے کر پھر اس کے عوض خریدا،دوم یہ کہ دینے سے قبل خریدا اور عوض میں دے دیا، سوم یہ کہ دینے سے قبل خریدا اور عوض اور مال دیا،چہارم یہ کہ مطلق خریداری کی ادائیگی میں یہ مال دیا،پنجم یہ کہ دوسرے دراہم سے خریدا اور ادائیگی میں یہ دراہم دئے۔ ابونصرنے فرمایا پہلی صورت کے بغیر باقی تمام صورتوں میں خریدا ہوا مال طیب ہے اور صدقہ کرنا بھی واجب نہیں،اور اسی کو فقیہ ابواللیث نے اختیار کیا ہے۔لیکن یہ ظاہر روایت کے خلاف ہے کیونکہ جامع الصغیر میں نص ہے کہ اگر کسی نے ہزار غصب کیا ہواور اس کے عوض لونڈی خریدی اور دو ہزار میں فروخت کی تو نفع کو صدقہ کرے،اور امام کرخی نے فرمایا کہ اول اور ثانی صورت میں طیب نہ ہوگا اور آخری تین صورتوں میں طیب ہے،اورا بوبکر نے فرمایا تمام صورتوں میں طیب نہیں ہے لیکن آج کل فتوٰی امام کرخی کے قول پر ہے تاکہ لوگوں سے حرج کا ازالہ ہوسکے اھ،اور ولوالجیہ میں ہے کہ بعض نے فرمایا سب صورتوں میں طیب نہیں وہ مختار ہے لیکن فتوٰی آج کل امام کرخی کے قول پر ہے حرام کی کثرت کی وجہ سے حرج کو ختم کیا جاسکے اھ،اور مصنف نے درمختاروغیرہ کی اتباع |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع