30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الترمذی قلت وصححہ ابوحاتم قال قدس سرہ فان قیل ھذا یقتضی ان لہ ملکا ناجزا فی مالہ،قلنا نعم لولم یقیدہ حدیث رواہ الحاکم وصححہ البیہقی عنہا مرفوعا ان اولادکم ہبۃ لکم یہب لمن یشاء اناثا ویہب لمن یشاء الذکور،واموالہم لکم اذا احتجتم الیہا،ومما یقطع بانہ مؤول انہ تعالی ورث الاب من ابنہ السدس مع ولد ولدہ،فلو کان الکل ملکہ لم یکن لغیرہ شیئ مع وجودہ [1] اھ۔ |
اوربخاری نے اپنی تاریخ میں بھی اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے میں کہتاہوں اور اس کو ابوحاتم نے صحیح قراردیا ہے او رابن ہمام قدس سرہ نے بیان کیا کہ اگراعتراض کیاجائے کہ اس حدیث کا مقتضی یہ ہے کہ بیٹے کا مال باپ کی قطعی ملکیت بن جائے،ہم جواب میں کہتے ہیں ہاں اگرحاکم کی روایت کردہ اور بیہقی کی صحیح کردہ حضرت ام المومنین عائشہ رضی الله عنہا کی مرفوع حدیث نے کہ تمھاری اولاد تمھارے لئے ہبہ ہے الله تعالٰی جس کو چاہے لڑکے ہبہ کرتاہے اور جس کو چاہے لـڑکیاں ہبہ کرتا ہے اور ان کا مال تمھارا ہے جب تمھیں اس کی احتیاج ہو۔پہلی حدیث کو مقید نہ کیا ہو (حالانکہ وہ اس سے مقید ہے)اور اس کے مؤول ہونے کی قطعی دلیل یہ ہے کہ الله تعالٰی نے باپ کو بیٹے کے مال میں اس کی اولاد کی موجود گی میں چھٹے حصے کا وارث بنایا ہے اگر بیٹے کے کل مال کا مالك باپ ہو تو پھر باپ کی موجودگی کے باوجود غیر کو کچھ نہ ملے۔اھ(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
فی المبتغی للفقیران یسرق من ابنہ الموسر مایکفیہ ان ابی ولاقاضی ثمہ والا اثم [2] اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
متبغی میں ہے۔فقیر باپ کو اپنے امیر بیٹے کے مال سے کفایت کے مطابق چرالینے کا حق ہے جب بیٹا دینے سے انکار کردے اور وہاں قاضی نہ ہو ورنہ باپ گنہ گارہوگا اھ والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۵۶: ۲۸ جمادی الآخرہ ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کایہ قول کہ سود کا روپیہ او رچوری کا روپیہ اور جوئے کا روپیہ اور غصب کا روپیہ اور جو تجارت سودی روپیہ سے ہو اور وکالت یا مختار کاری کا پیسہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع