30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسی صورتیں واقع ہوتی ہیں بڑی تفصیل وکافی جواب سے ممتاز فرمائیں۔
الجواب:
صبی ہر گز اہل طلاق نہیں،نہ اس کے دئے طلاق واقع ہو،نہ اس کی طرف سے اس کا ولی خواہ کوئی طلاق دے سکے اگر دے ہر گز نہ ہوگی،اصول میں کہ ذکر حاجت ہے صرف دو صورتوں میں منحصرہےـ:
اول: یہ کہ صبی عاقل کافر کی زوجہ اسلام لائی،حاکم شرع نے صبی پراسلام پیش کیا۔اس نے انکار کردیا تفریق ہوگی اور یہ مذہب صحیح میں طلاق قرار پائے گی،
دوم: یہ کہ صبی آلت بریدہ تھا،عورت نے دعوٰی کیا قاضی نے تفریق کردی،یہ بھی علی الصحیح طلاق ہے وبس۔
تیسری صورت: ایك قول ضعیف پر ہے کہ صبی عاقل معاذاﷲ مرتد ہوگیا جو اسے طلاق جانتے ہیں طلاق کہیں گے،اور صحیح یہ کہ ردت سے نکاح فسخ ہوتاہے اگر چہ شوہر ارتداد کرے۔تو یہ طلاق نہیں،اس مسئلہ کی اعلی تحقیق مع ازالہ جملہ اوہام فتاوٰی فقیر کتاب الطلاق میں ہے۔اشباہ احکام الصبیان میں ہے:
|
لایقع طلاقہ ولا عتقہ الاحکام فی مسائل ذکرناہا فی النوع الثانی من الفوائد [1]۔ |
اس کی طلاق وعتاق واقع نہ ہوں گی،مگر چند وہ مسائل جن کو ہم نے فوائد نوع ثانی میں بیان کیا ہے حکما صحت ہوگی۔(ت) |
قواعد میں فرمایا:
|
الصبی لایقع طلاقہ الااذا اسلمت فعرض علیہ ممیزا فابی وقع الطلاق علی الصحیح وفیما اذا مجبوبا وفرق بینہما فہو طلاق علی الصحیح[2]۔ |
بچے کی طلاق واقع نہ ہوگی مگر جب بیوی مسلمان ہوجائے اور قابل تمیز بچہ ہوتوقاضی اس پر اسلام پیش کرے اور وہ انکار کردے تو صحیح قول کے مطابق اس کی طلاق صحیح ہوجائیگی۔اور ذکر کٹا ہو اورقاضی تفریق کردے تو صحیح قول کے مطابق وہ طلاق ہوجائے گی۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع