30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
احکامہ [1]۔ |
ہوں گے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
فیجوز بیعہ بالغبن الفاحش عندہ خلافا لہما [2]۔ |
تو غبن فاحش کے ساتھ اس کی بیع امام صاحب کے نزدیك جائزہوگی،صاحبین اس کے خلاف ہیں۔(ت) |
عالمگیریہ میں ہے:
|
المعتوہ الذی یعقل البیع والشراء بمنزلۃ الصبی یصیر ماذونا باذن الاب والوصی والجد دون غیرہم خزانۃ المفتین ولو اذن للمعتوہ ابنہ کان باطلا،وعلی ھذا لواذن لہ اخوہ اوعمہ او واحد من اقربائہ سوی الاب والجد فاذنہ باطل [3] مبسوط(باختصار)واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
معتوہ جو بیع وشراء کی سمجھ رکھتاہے وہ بچے کی طرح ہے باپ دادا اور ان کی اجازت سے ماذون ہوسکے گا غیر کی اجازت نہیں،خزانۃ المفتین اور اگر معتوہ کو بیٹا اجازت دے تو باطل ہوگا،اس بنا پر اگربھائی یا چچا یا کوئی اور قریبی اجازت دے جو باپ دادا کاغیر ہو تو یہ اجازت باطل ہوگی،مبسوط (باختصار) واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۵۳:از پروچڑان موضع کوٹلہ مدھو ڈاکخانہ غوث پور ریاست بہاولپور تحصیل خان پور مرسلہ ابوالمنظور محمد غوث بخش صاحب ۱۳ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ طلاق صبی کے متعلق جو اصول فقہ میں لکھتے ہیں کہ عندالحاجۃ واقع ہوجاتی ہے،حاجت کی کون کون صورتیں ہیں۔آیا یہ صورت ذیل عندالحاجۃ میں داخل ہوسکتی ہے کہ ایك ناکح بعمر ۱۲ سال ہے اور منکوحہ اس کی بعمر ۲۸ سال،مگر اعمال اس عورت کے فاحشہ ہیں،حاملہ من الزنا ہوجاتی ہے او ر اسقاط کرادیتی ہے۔اور ایسا معاملہ اس سے باربار ہواہے اور بوجہ غیر بلوغ ناکح وعدم بیتوتت کے نان ونفقہ سے ازحدتنگ ہے۔تو ایك گونہ فعل حرام مذکور اس کا باخذ اجرت حرام اضطراری تصور ہوتاہے،برآں التماس ہے کہ بندہ گرداور قاضی علاقہ کاہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع