30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تصدیق کرادیا،نقل شامل سوال ہے۔مگر زر ثمن کالین دین نہیں ہوا صرف اقرار ہواہے۔مگر اس کے بعد ایك دعوٰی تنسیخ دستاویز مذکورکا زید نے کچہری میں کیا،دعوٰی اورجواب دعوٰی بھی شامل سوال ہے۔تو دریافت طلب یہ ہے کہ کیا جبکہ حواس صحیح نہ ہوں اس کی بیع مذکور بغبن فاحش ہے۔ا وراس کو ایسی بیع کااختیار ہے یانہیں؟ اگرکرے تو کیاحکم ہے؟
الجواب:
جو شخص کم سمجھ ہو،تدبیر ٹھیك نہ ہو،کبھی عاقلوں کی سی باتیں کرے،کبھی مدہوش کی سی،اگر جنون کی حد تك نہ پہنچاہو،لوگوں کو بے سبب مارتا گالیاں دیتا نہ ہو،وہ معتوہ کہلاتا ہے۔شرعا اس کا حکم سمجھ وال بچے کی مثل ہے،اگر برابر بلکہ دونی قیمت کو بیچے وہ بھی بے اجازت ولی مال نافذ نہیں۔اگر یہ ولی رد کردے گا باطل ہوجائے گی۔او رغبن فاحش کے ساتھ جس طرح حسب بیان سائل صورت سوال میں ہے کہ پچاس ہزار کی جائداد بیس ہزار کو بیع کی،ایسی بیع تو باطل محض ہے کہ ولی کی اجازت سے بھی نافذ نہیں ہوسکتی حتی کہ اگر خود معتو ہ بعد صحت اسے جائز کرے تو جائز نہ ہوگی۔
|
فان الاجازۃ انما تلحق الموقوف وھذا باطل لصدورہ ولا مجیز۔ |
کیونکہ اجازت تو موقوف کو ملتی ہے۔جبکہ یہ باطل ہے کیونکہ جب اس کا صدور ہو ا تو کوئی اجازت دینے والا نہ تھا۔ (ت) |
درمختار میں ہے:المعتوہ حکمہ کممیز [1](معتوہ کا حکم تمیز رکھنے والے کی طرح ہے۔ت)ردالمحتارمیں ہے:
|
احسن ماقیل فیہ من کان قلیل الفہم مختلط الکلام فاسد التدبیر الا انہ لایضرب ولایشتم کما یفعل المجنون درر [2]۔ |
معتوہ کی تعریف بہتر قول یہ ہے کہ وہ قلیل الفہم،خلط ملط کلام اور فاسد تدبیر والا ہے صرف یہ کہ وہ ضرب وشتم نہیں کرتا جیسے مجنون کرتاہے۔درر(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
تصرف الصبی والمعتوہ الذی یعقل البیع |
بچے اور معتوہ جو بیع وشراء کی سمجھ رکھتاہے ان کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع