30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الموت وان لم یکن صاحب فراش [1]۔ |
عادتا واقع ہوتی ہے اگر وہ صاحب فراش نہ ہو۔(ت) |
ردالمحتارمیں نورالعین سے اس میں محیط سے ہے:
|
ذکر محمد فی الاصل مسائل تدل علی ان الشرط خوف الہلاك غالبا لاکونہ صاحب فراش [2]۔ |
امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے مبسوط میں فرمایا بہت سے مسائل اس پر دال ہیں کہ غالب طور پر موت واقع ہوسکتی ہو۔صاحب فراش ہونا شرط نہیں۔(ت) |
اسی میں زیلعی سے ہے:
|
لانہ فی ابتدائہ یخاف منہ الموت۔ولہذا یتداوی فیکون مرض الموت،وان صارصاحب فراش بعد التطاول فہو کمرض حادث حتی تعتبر تصر فاتہ من الثلث [3]۔ |
کیونکہ اس کے ابتداء میں ہی موت کا خطرہ ہوتاہے ا س کا علاج بھی ہو تو اس کو مرض موت کہا جائے گا اور لمبی مدت کے بعد وہ صاحب فراش بنے تو نیا مریض قرار پائے گا حتی کہ صاحب فراش ہونے سے قبل کے تصرفات ثلث میں معتبرہوں گے(ت) |
اور مرض الموت میں ایك وارث کے ہاتھ بیع اگرچہ مناسب قیمت کو بھی ہو بے اجازت دیگرورثہ باطل ہے ہاں اگر وہ جائز کردیں تو جائز ہوجائے گی،درمختارمیں ہے:
|
وقف بیع المریض لوارثہ علی اجازۃ الباقی [4]۔ |
مریض کااپنے وارث کو مال فروخت کرنا دوسرے ورثاء کی اجازت پر موقوف رہے گا۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
فان مات منہ ولم تجز الورثۃ بطل،فتح [5]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اگر اس مرض میں فوت ہوگیا اور باقی ورثاء نے جائز نہ کیا ہو تو بیع باطل ہوجائے گی،فتح واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
[1] درمختار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲۰
[2] ردالمحتار کتاب الطلاق باب طلاق المریض داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۵۲۰
[3] ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۲۳
[4] درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲
[5] ردالمحتار کتاب البیوع داراحیا ء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع