30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حالہ [1] اھ باختصار۔ |
بشرطیکہ حال موافق ہو اھ مختصرا۔(ت) |
عالمگیریہ میں ہے:
|
ولایحکم بالبلوغ ان ادعی وھو مادون اثنتا عشرۃ سنۃ فی الغلام وتسع سنین فی الجاریۃ کذا فی المعدن [2]۔ |
بلوغ کاحکم لڑکے میں بارہ سال سے کم اور لڑکی میں نوسال سے کم پردیا جائے۔معدن میں ایسے ہی ہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
لااعتبار لنبات العانۃ ولااللحی،واما نہود الثدی ففی الحموی انہ لایحکم بہ فی ظاہر الروایۃ،وکذا ثقل الصوت کما فی شرح النظم الہاملی،ابوالسعود،وکذ اشعر الساق والابط والشارب [3]۔واﷲ تعالٰی اعلم. |
زیر ناف بالوں اور داڑھی کا اعتبار نہیں ہے۔اور لڑکی کے پستانوں کا ابھرنا،توحموی میں کہا ظاہر روایت میں بلوغ کاحکم نہ ہوگا،اور یوں ہی آواز بھاری ہونا بھی معتبر نہیں،جیساکہ ہاملی کی نظم کی شرح میں ہے،ابوالسعود،اور یونہی پنڈلی،بغل او رمونچھوں کے بال بھی معتبرنہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۴۱: ۲۶ شعبان ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید مجنون ہوگیا،اور اس کے ورثاء میں اس کی ایك بیوی (ہندہ)اور اس کے چند لڑکی لڑکا اور اس کا ایك برادر حقیقی خورد عمرو موجود ہے۔زید نے بزمانہ صحت وثبات عقل اپنے مکان مسکونہ کے علاوہ اپنی مملوکہ ایك دوسرے مکان میں عمرو کو بودوباش کی اجازت دے دی تھی،چنانچہ عمرو تخمینا د س سال سے مکان مذکورمیں سکونت پذیر ہے،عمرو کا چونکہ اب یہ ارادہ ظاہر ہواکہ ڈیڑھ دو سال کے بعد بارہ سال گزرنے پر وہ زید کے مکان پر حق موروثیت قائم کرے گا۔اس واسطے ہندہ عمرو سے کہتی ہے کہ اگرمیری تم کفالت نہ کرو۔اور مکان کاکرایہ بھی مطلق نہ دو،تو زید کے مکان کا کرایہ نامہ ہی لکھ دو،مگر عمرو اس سے قطعا انکار کرتاہے۔شرعا اس میں کیا حکم ہے۔آیا ہندہ کا عمرو سے کرایہ نامہ مکان کے تحریر کردینے کے واسطے کہنا شرعًا بجا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع