30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:لڑکا بارہ سال اورلڑکی نوبرس سے کم عمرتك ہرگز بالغ وبالغہ نہ ہوں گے۔اور لڑکا لڑکی دونوں پندرہ برس کامل کی عمرمیں ضرور شرعا بالغ وبالغہ ہیں،اگر چہ آثار بلوغ کچھ ظاہر نہ ہوں،ان عمروں کے اندر اگر آثار پائے جائیں،یعنی خواہ لڑکے خواہ لڑکی عــــــہ۱ سوتے خواہ جاگتے میں انزال ہو یالڑکی کو حیض آئے یا جماع سے لڑکا حاملہ کردے یا لڑکی کو حمل رہ جائے تو یقینا بالغ وبالغہ ہیں،اور اگر آثار نہ ہوں مگر وہ خود کہیں کہ ہم بالغ وبالغہ ہیں،اور ظاہر حال ان کے قول کی تکذیب نہ کرتاہو تو بھی بالغ وبالغہ سمجھے جائیں گے اور تمام احکام بلوغ کے نفاذ پائیں گے،اور اگر داڑھی عــــــہ۲ مونچھ نکلنا یا لڑکی کے پستان میں ابھار پیدا ہونا کچھ معتبر نہیں۔درمختارمیں ہے:
|
بلوغ الغلام بالاحتلام والاحمال والانزال و الجاریۃ بالاحتمال والحیض والحبل۔فان لم یوجد فیہما حتی یتم لکل منہما خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی وادنی مدتہ لہ اثنتا عشرۃ سنۃ۔ولہا تسع سنین [1]۔ |
لڑکے کے بلوغ احتلام یابیوی کو حاملہ کرنا یا انزال سے معلوم ہوگا اور لڑکی کا بلوغ حاملہ ہونے حیض اور احتلام سے ظاہر ہوگا۔اگر دونوں میں کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو مفتی بہ قول کے مطابق دونوں کی عمر پندرہ سال ہوجانے پر،اورکم از کم مدت بلوغ لڑکے میں بارہ سال اور لڑکی کی نو سال عمر ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
فان راہقا فقالا بلغنا صدقا،ان لم یکذبہا الظاہر، فیشترط لصحۃ اقرارہ ان یکون یحتلم مثلہ والا لا یقبل قولہ شرح وہبانیۃ،وھما حینئذ کبالغ حکما فلا یقبل جحودہ البلوغ بعد اقرارہ مع احتمال |
دونوں مراہق تھے تو انھوں نے کہہ دیا کہ ہم بالغ ہیں تو تسلیم کیا جائے گاکہ بشرطیکہ ان کا ظاہر حال ان کو جھوٹا نہ بنائیے تو اس کے اقرار کی صحت کے لئے اس جیسوں کا بالغ ہونا ممکن ہو ورنہ اس کی بات قبول نہ ہوگی وہبانیہ،تو اقرار کے بعد وہ بالغ کے حکم میں ہوں گے لہذا اب ان کا انکار قابل قبول نہ ہوگا۔ |
عــــــہ۱: لفظ لڑکی کے بعد"کو"ہونا چاہئے۔ عــــــہ ۲: یہاں"اگر"زلہ قلم ناسخ سے ہے۔عبدالمنان الاعظمی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع