30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کا ہاتھ پاؤں سے معذور ہونا مانع ولایت نہیں بشرطیکہ عاقل بالغ ہو،ورنہ سائل کہ اس مخبوط کا بھتیجا ہے اس کا ولی ہے اس کے ہوتے ماموں کوئی چیز نہیں۔درمختارمیں ہے:
|
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث و الحجب بشرط حریۃ وتکلیف،فان لم یکن عصبۃ فالو لایۃ للام،ثم الاخت،ثم ولد الام،ثم ذوی الارحام العمات،ثم الاخوال [1] الخ،باختصار۔ |
نکاح میں ولی،عصبہ بنفسہ وراثت اور وراثت سے مانع بننے (حجب)کی ترتیب پر بشرطیکہ وہ آزاد اورمکلف ہوں اور اگر عصبات نہ ہوں تو ماں کو ولایت ہوگی پھر بہن پھر ماں کی اولاد پھر ذوالارحام پھر پھوپھیوں کو،پھر ماموں کو الخ، باختصار۔(ت) |
اور ولایت مال صرف اس شخص کو ہے جسے حکیم ولایت علی خاں اپنے بعد اپنی اولاد و جائداد کی غور پرداخت سپرد کرگئے اپناو صی بناگئے ہوں وہ نہ رہا ہو تو وہ شخص جسے وصی مذکور اسی طرح اپنا وصی کر گیا ہو۔وہ بھی نہ ہو تو وہ جسے مخبوط کے دادا نے اپنا وصی کیا ہو۔وہ بھی نہ ہو تو وہ جسے دادا کا وصی اپنا وصی کرگیا۔ان کے سوا کسی کو اس مخبوط کی ولایت مال نہیں پہنچتی،درمختارمیں ہے:
|
ولیہ ابوہ ثم وصیہ بعد موتہ،ثم وصی وصیہ،ثم بعدھم جدہ الصحیح،وان علا ثم وصیہ،ثم وصی وصیہ،ثم القاضی اووصیہ ھذا فی المال بخلاف النکاح،کما مرفی بابہ[2]۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
اس کا ولی باپ،اس کی موت کے بعد اس کا وصی،پھر وصی کا وصی،پھر ان کے بعد حقیقی دادا اوپر تک،پھر اس کا وصی،پھر اس کے وصی کا وصی،پھر قاضی یا اس کا وصی،یہ مالی ولایت ہے اور نکاح کی ولایت اس کے خلاف ہے۔جیسا کہ نکاح کے باپ میں گزرا،واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۴۰: از پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ قاضی محمد عبدالوحید صاحب ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نابالغوں کے لئے حد بلوغ کیا ہے؟ مرد ہوں یا عورت۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع