30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تکریم عرض پر داز خدمت سامی ہے۔استفتاء ارسال خدمت سامی ہے۔یہاں کے بعض علماء ایسا فرماتے ہیں کہ زوج ہندہ کل ترکہ ہندہ کا مالك نہیں ہوسکتا،نہ اس میں تصرف واسطے تعلیم وتربیت پسرکرسکتاہے۔صرف اپنے حصہ چہارم وحصہ پسر ہندہ میں اس کوحق تصرف کا ہے۔ترکہ ہندہ سے چہارم اس کے پدر متوفی کا ہے وچہارم ہندہ کے برادران کو ملنا چاہئے،اندریں باب جیساحکم شرع ہو اس سے نیاز مند کو آگاہی بخشیں۔فقط۔
الجواب:
لڑکا جبکہ سات سال سے زیادہ علم کا ہے اپنے باپ کے پاس رہے گا،اور متروکہ ہندہ سے جو حصہ پسر کوملا یعنی بارہ۱۲ سہام سے سات سہم،اس میں تصرف شرعی کا اختیار بھی پسرکے باپ ہی کوہوگا۔مامووں کو کوئی تعلق نہیں،جس طرح چھٹا حصہ کہ ترکہ ہندہ سے پدر ہندہ کو پہنچا وہ وارثان پدر ہندہ کا ہے۔اس سے شوہر کو کچھ علاقہ نہیں۔
|
فی الشامیۃ عن الفتح یجبر الاب علی اخذ الولد بعد استغنائہ عن الام،لان نفقتہ وصیانتہ علیہ بالاجماع اھ [1]،وفی الدرالمختار ولیہ ابوہ ثم وصیہ ثم جدہ ثم وصیہ،ثم القاضی اووصیہ،دون الام او وصیہا،ھذا فی المال [2] اھ مختصرا۔واﷲ سبحانہ و تعالٰی اعلم۔ |
فتاوٰی شامی میں فتح سے ہے جب بچہ ماں کی پرورش سے مستغنی ہوجائے تو باپ کو بیٹا واپس لینے پرمجبور کیا جائے گا کیونکہ بچے کا خرچہ اور تربیت والد کے ذمہ بالاجماع ہے اھ،اور درمختارمیں ہے بچے کا ولی اس کا باپ پھر اس کا وصی،پھر دادا پھر اس کا وصی،پھر قاضی یا اس کا وصی ہے۔ماں یا اس کا وصی ولی نہیں ہے۔یہ ترتیب مالی ولایت میں ہے اھ مختصرا۔واﷲ سبحنہ و تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۳۹: از لشکر گوالیار نیابازار مکان حکیم شریف حسین خان مرسلہ علی حسین خاں ۴ رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
تسلیمات نیازمندی معروض خدمت،عرض حال یہ ہے کہ یہاں بکچہری صاحب جج یك مقدمہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع