30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
غیر الاب وابیہ ولو الام اوالقاضی لایصح النکاح من غیر کفوءٍ اوبغبن فاحش اصلا [1] اھ ملخصا۔ |
خواہ ماں یا قاضی ہو تو غیر کفومیں نکاح صحیح نہ ہوگا،یا بہت زیادہ گراں مہر پر ہو تو بھی اصلا جائز نہ ہوگا اھ ملخصا۔(ت) |
اسی طرح بیع کہ جب قیمت میں کمی فاحش ہوگی،اجازت ولی سے بھی اصلاح ناممکن،تویہ وہی تصرف ہوا جس کا حال صدور کوئی مجیزنہیں،اور ایسا تصرف باطل ہوتاہے۔
|
فی ردالمحتار علی الدرالمختار للعلامۃ السید ابن عابدین رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ قولہ اجازو لیہ ای ان لم یکن فیہ غبن فاحش فان کان لایصح وان اجازہ الولی بخلاف الیسیر جوہرۃ [2]۔ عــــــہ |
درمختارکے حاشیہ ردالمحتار علامہ ابن عابدین میں ہے،ماتن کا قول کہ"ولی جائز کردے"یعنی جب غبن فاحش مہر میں نہ ہو اور غبن فاحش ہو تو ولی کے جائز کرنے پربھی جائز نہ ہوگا بخلاف غبن یسیر کے۔جوہرہ(ت) |
مسئلہ ۲۳۸:از گلشن آباد عرف جاورہ ملك مالوہ محلہ نظر باغ متصل مکان عالمگیرخان مرسلہ سید ذوالفقار احمد صاحب ۲۳ شوال ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ فوت ہوئی،اس کا ایك لڑکا نو سال کاا ورایك زوج،اور ایك پدر،اور دو برادر وارث رہے،عرصہ ہوا کہ مسماۃ ہندہ کا پدر فوت ہوگیا،اب ان وارثوں میں پسر کے رکھنے اور تعلیم کرانے کا اس وقت کون مستحق ہے۔اور جو ترکہ ہندہ کا زیور وغیرہ رہا ہے اس میں تصرف کاواسطے تربیت پسر متوفیہ کے کون مستحق ہے، اور کس کے پاس رہے گا بینوا توجروا
مرشد دین،ہادی راہ متین جناب مولانا محمد احمد رضاخاں صاحب دام فیضکم،بعد تسلیم بصد تعظیم و
|
عــــــہ:لیس فی ھذا لجواب علامۃ الاختتام وظنی انہ کامل۔(عبدالمنان الاعظمی) |
اس جواب کے اختتام پر علامت نہیں ہے تاہم میرے گمان میں یہ تام ہے۔(ت)(عبدالمنان الاعظمی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع