30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لہ ولایۃ التجارۃ فی مال الصغیر کالاب والجد الوصی، فلایجوز باذن الاخ والعم والام واجاب المقدسی یحمل ھذا التعمیم علی مال الولی فعلہ کالنکاح فتصح اجازتہ من الاخ والعم حموی [1] اھ۔ |
اورساتھ ہی اس کو جو نابالغ کے مال میں تجارت کا ولی بنتاہے جیسے باپ،دادا،اور وصی،تو بھائی،چچا اور ماں کی اجازت صحیح نہ ہوگی،اور مقدسی نے اس کے جواب میں ولایت کو عام کرکے ولی کے اختیار ی فعل مثلا نکاح کو شامل کیا تو بھائی اور چچا کی اجازت صحیح ہوگی۔حموی اھ(ت) |
ہاں اگر اس کے افاقہ کا کوئی وقت معین ہو کہ اس وقت خاص بالکل ہوش میں آجانے کا عادی ہے،تو اس حالت افاقہ میں جو تصرف اس سے صادرہوگا وہ اس میں مثل سائر عقلاء کے ہے کما ذکر ہ الزیلعی وفسرہ الشلبی نقلہ الطحطاوی(جیسا کہ زیلعی نے اسے ذکر کیا اور شلبی نے تفصیل کے ساتھ اسے بیان کیا طحطاوی نے اسے نقل کیا۔ت)لیکن یہ صورت یہاں معدوم،کہ سائل کہتاہے مسلوب الحواسی اس کی دائمی تھی جس سے کبھی افاقہ نہ ہوتا۔اور اس کے اظہار سے یہ بھی ثابت ہے کہ یہ مہر جو زن مذکورہ کا باندھا گیا اس کے مہر مثل سے کہیں زائد ہے پس صورت مستفسرہ میں یہ نکاح وبیع بہرتقدیر راسا باطل محض ہیں جن کی صحت ونفاذ کی کوئی سبیل نہیں،خواہ زید بالکل ذاہب العقل ہو اور کسی طرح کی تمیز نہ رکھتاہو،جیسا کہ تقریر سوال سے بھی ظاہر ہوتاہے یا محجوروں کی دوسری قسم میں داخل ہو جن کے تصرفات کذائیہ اجازت اولیاء پر موقوف رہتے ہیں۔تقدیر اول پر بطلان نہایت واضح کہ لایعقل محض کے تصرفات کواجازت اولیاء بھی کام نہیں آتی،کماذکرنا،اوردوسری شق پر جب تقرر مہر میں غبن فاحش ہو،اور مہر مثل سے بہت زیادہ بندھا تو ایسا نکاح خود اب وجد کے سوا اور اولیاء کے ہاتھ کا کیا ہوا اصلا صحیح نہیں ہوتا۔پھرا نھیں اجازت کا کیا اختیار ہوگا اور قاعدہ مقررہ فقہیہ ہے کہ:
|
کل تصرف صدر ومالہ مجیز حالۃ العقد لاینعقد اصلا۔ |
ایسا تصرف جس کے انعقاد کے وقت اس کو جائز کرنے والا نہ ہو تو وہ عقد منعقد نہ ہوگا۔(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
وان کان المزوج غیر ھما ای |
اگرنکاح کرکے دینے والا باپ اور دادا کا غیر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع