30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس صورت میں شرعا لڑکے نابالغ اورنیز جائداد غیر منقولہ کا کون ولی مقرر ہوسکتاہے۔بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جب کوئی عصبہ نہیں تو صرف ولایت نکاح ماں کو ہے۔نابالغ پر ولایت مال اور جائداد پر اختیار،ماں بہن خواہ ان رشتہ کے چچاؤں کسی کونہیں۔جب تك مورث نے ان میں کسی کو وصی نہ کیا ہو کہ باپ کے بعد ولایت مال اس کے وصی کو ہے۔یعنی جسے اس نے وصیت کی ہو کہ تومیرے بعد میری جائداد یا اولاد کی غور پر داخت کرنا،وہ نہ ہو تو اس کا وصی،وہ نہ ہو تو دادا،وہ نہ ہو تو اس کا وصی،وہ نہ ہو تو اس کے وصی کا وصی،وہ نہ ہو تو پر دادا،وہ نہ ہو تو اس کا وصی،پھر وصی الوصی،وعلی ہذالقیاس،پھر ان میں کوئی نہ ہو تو حاکم اسلام یا اس کا وصی،ان کے سوا کوئی ولی مال نہیں۔
|
فی الدرالمختار ولیہ ابوہ ثم وصیہ ثم وصی وصیہ، ثم جدہ الصحیح وان علا،ثم وصیہ ثم وصی وصیہ، ثم القاضی او وصیہ ایہما تصرف صح دون الام او وصیہا،ہذا فی المال بخلاف النکاح [1] اھ ملخصا واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
درمختارمیں ہے۔،اس کا ولی ترتیب وار،باپ پھر وصی پھر وصی کاوصی،پھر حقیقی دادا اوپر تک،پھر اس کا وصی پھر اسکے وصی کا وصی،پھر قاضی یا اس کا وصی دونوں میں کوئی بھی تصرف کرے،صحیح ہوگا،ماں یا اس کا وصی ولی نہیں ہیں،یہ مال کے معاملہ میں ہے بخلاف نکاح کے اھ ملخصا واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۳۷:(نوٹ)اصل میں سوال نہیں ہے،لیکن جواب سے یہ مفہوم ہوتاہے کہ کسی فاترالعقل کے تصرفات نکاح وعقد بیع سے متعلق تھا جس کو بعد میں ایسے ولی نے جائز کردیا تھا،جو باپ اور دادا کے علاوہ تھا۔(عبدالمنان)
الجواب:
اللہم ھدایۃ الحق والصواب۔مدارصحت ونفاذ تصرفات وترتیب احکام میں تو یہ عقل ہے،یہ جو محض بے عقل ہے اس کے تصرفات رأسا باطل،کہ اجازت اولیاء کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے،اور جو نفع وضررمیں قدرے تمیز حاصل،اور عقل سے کچھ بہرہ ہے،مثلا بیع وشراء کو سالب وجالب ملك اورغبن قلیل وکثیر میں تفرقہ اور مقصود تجارت حصول منفعت جانتاہے یا مسلوب الحواسی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع