30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیکھو تصریح کرتے ہیں کہ اگر نادرا بعض کلمات وحرکات قانون عقل سے خارج بھی صادر ہوں،تو عاقل ہی کہا جائے گا۔آگے چل کر فرماتے ہیں:
|
فالذی ینبغی التعویل علیہ فی المدہوش ونحوہ اناطۃ الحکم بغلبۃ الخلل فی اقوالہ وافعالہ الخارجۃ عن عادتہ [1]الخ۔ |
قابل اعتماد بات یہ ہے کہ مدہوش اور اس جیسوں کاحکم اس کے اقوال وافعال میں خلل کا غلبہ اور عادت سے خارج ہونے پر لگے لگا۔الخ۔(ت) |
ہر عاقل جانتاہے کہ بعض اوقات کسی خیال کے استغراق یا تکلیف کی شدت یا فرحت کی کثرت یا اور کسی صورت سے وہ بات بیخودی کی اس سے صادرہوجاتی ہے کہ جب خیال کرتاہے تو خود ہی اسے تعجب ہوتاہے،پھر کیا ا سے یہ لازم آسکتاہے کہ اسے مسلوب الحواس ٹھہرادیں،اور اس کے تصرفات کا نفاذ نہ مانیں،اور یہاں طول عہد مرض ایك قرینہ قویہ بھی ہے کہ اس کی پریشانی میں اگر نادرا کسی ایسے فعل کا وقوع ہوجائے تو کچھ جائے تعجب نہیں۔
|
فی ردالمحتار عن ہشام ابن کلبی قال حفظت مالم یحفظ احد ونسیت مالم ینسہ احد حفظت القراٰن فی ثلثۃ ایام واردت ان اقطع من لحیتی مازاد علی القبضۃ فنسیت فقطعت من اعلاھا [2]۔ |
ردالمحتارمیں ہشام بن کلبی سے منقول ہے اس نے کہا میں نے حفظ کیا جو کسی نے نہ کیا اور میں بھولا اس طرح کوئی نہ بھولا میں نے قرآن پاك تین دن میں حفظ کرلیا اور میں قبضہ سے زائد اپنی داڑھی سے کاٹنا چاہتا تھا توبھول کر میں نے قبضہ کے اوپر سے کاٹ دی۔(ت) |
دیکھو ایسا صحیح الضبط قوی الدماغ آدمی جس نے روزانہ د س دس پارہ قرآن مجید کے یاد کرکے تین روز میں کلام اﷲ شریف پورا حفظ کرلیا،اس سے ایسی خطاء عظیم واقع ہوئی کہ جس پر وہ خود کہتے ہیں مجھ سے وہ بھول ہوئی جوکسی سے نہ ہوئی،اب کیا اس نادر بات پر ان کی قوت بالکل زائل اور مسلوب الحواسی حاصل پائی جائے گی،بالجملہ جب تك غالب افعال واقوال ایسے ہی نہ ثابت کئے جائیں۔ہر گز بکارآمد نہیں کہ فقہائے کرام عدم اعتبار نادر کی تصریح فرماچکے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۵: یکم ذیقعدہ ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنے دو نکاح کئے،دونوں کا مہر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع