30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معتوہ کہتے ہیں۔اس میں بھی اسی قدر ضرورت ہے کہ تدبیریں اس کی ٹھیك نہ رہیں،سمجھ اس کی درست نہ ہو،باتوں کاکوئی ٹھکانہ نہ رہے۔ابھی بیٹھاہے خوب ہوش وحواس کی باتیں کررہاہے،ابھی خرافات وہذیانات بکنے لگا،سودائیوں کی طرح مہمل وبے معنی بہکنے لگا یہاں تك کہ شریعت مطہرہ اس کے اوپر سے اپنی تکلیفیں اٹھالیتی ہے اور نماز وروزہ تك اس کے اوپر فرض نہیں رہتا۔
|
فی الفتاوی الخیریۃ العتہ قلۃ الفہم واختلاط الکلام وفساد التدبیر وذٰلك بسبب اختلاط العقل فیشبہ مرۃ کلامہ کلام العقلاء ومرۃ کلام المجانین۔[1] وفی رد المحتار حکم المعتوہ کالصبی العاقل فی تصرفاتہ، وفی رفع التکلیف عنہ زیلعی [2]۔ |
فتاوی خیریہ میں ہے،عتہ__ قلت فہم،کلام کا اختلاط اور فساد تدبیر ہے۔اور یہ عقل میں خلل کی وجہ سے ہوتاہے تو کبھی اس کا کلام عقلاء کے کلام اورکبھی مجانین کے کلام کے مشابہ ہوتاہے۔اور ردالمحتارمیں ہے کہ معتوہ کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے تصرفات اور غیر مکلف ہونے میں نابالغ عاقل جیسا ہوتاہے۔ زیلعی۔(ت) |
اب چاہے زوال عقل اپنی اعلی درجہ کی حد کو پہنچ جائے،یعنی مثلا اتنی بات کی بھی خبر نہ رہے کہ چیز بیچتے ہیں تو اپنی ملك سے نکل جاتی ہے خریدتے ہیں تو اپنے پاس آجاتی ہے،خریدو فروخت میں نفع کاارادہ چاہے۔خواہ اس حد کونہ پہنچا ہو،اور ان باتوں کی ہنوز گونہ تمیز باقی ہو،مگر وہ امور جو ہم نے اوپر ذکر کئے اس میں پائے جانے ضرور ہوں کہ وہ تو معتوہ کی نفس تفسیر میں واقع ہیں،پھر جب تك اس کیفیت کا ثبوت نہ ہو،ہرگز مسلوب الحواسی شرعا ثابت نہیں ہوسکتی نہ یہاں شاذونادر کا اعتبار کریں،بلکہ اکثر افعال وحرکات فساد عقل واختلال ہوش کے ہونے چاہئیں۔
|
وفی ردالمحتار ویؤید ماقلنا قول بعضہم العاقل من یستقیم کلامہ وافعالہ الانادرا [3]۔ |
ردالمحتار میں ہے ہماری بات کی بعض کے اس قول سے تائید ہوتی ہے کہ عاقل وہ ہے جس کی کلام اور افعال درست ہوتے ہیں ماسوائے نادر موقع کے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع