30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)اکراہ کے لئے یہ ضرور نہیں کہ جس وقت مکرہ وہ فعل کرے گلے پر چھری یا قید وضرب فی الحال موجود ہو بلکہ اکراہ کنندہ کی طرف سے وعید وتہدید سابق اور اس کے وقوع کا صحیح اندیشہ لاحق او ر مکرہ کا مکرہ کے قابو میں ہونا تحقق اکراہ کے لئے بس ہے۔
خیریہ میں ہے:
|
الاکراہ یعدم الاختیار فلاصحۃ للاقرار مع الاکراہ والاکراہ فیہ یکون باشیاء منہااذا قال المتغلب لرجل اما ان تقرلی بکذا والا اقول للظالم الفلانی لقی مالا و وجد کنزا اونحوذٰلك فاذا کان الرجل لہ جرأۃ و ھددہ بمن یسمع کلام الغماز و قال ان لم تقرلی بکذا اسعی بك الی من یاخذك بمجرد کلامی وغلب من ظن المہدد ذٰلك فاقر کاذبا لایلزمہ ما اقربہ کما ھو صریح کلام ائمتنا [1]۔ |
جبر،اختیار کو معدوم بنادیتا ہے لہذ اجبر کے ساتھ حاصل کردہ اقرار کی صحت نہ ہوگی اور جبر واکراہ کی کئی صورتیں ہیں،ایك یہ کہ کوئی غالب آدمی دوسرے شخص کو کہے کہ تومیرے حق میں فلاں اقرار کر ورنہ میں فلاں ظالم کو کہوں گا کہ اس کو مال ملایا خزانہ ملا یا ایسی ہی کوئی بات اگر یہ شخص جری ہے اور ایسے ظالم کی دھمکی دے جو اس کی بات مانتا ہو اور کہا کہ اگر تو میرے حق میں فلاں اقرار نہ کرے گا تومیں تجھے فلاں کے پاس لے جاؤں گا جو صرف میرے کہہ دینے پر تجھے پکڑے گا اور دھمکی سننے والے کو ظن غالب ہے کہ یہ ایسا کردے گا تو اس نے جھوٹا اقرار کردیا تو اس اقرار سے کوئی چیز لازم نہ ہوگی جیساکہ ہمار ے ائمہ کا صریح کلام ہے۔(ت) |
ہاں اگر اس نے تہدید کی اوراب یہ اس کے قابو سے نکل گیا اور اس اندیشہ سے کہ پھر اسے قابو ملے تو ایذا پہنچا ئے گا،کوئی کام کیا تو یہ اکراہ سے نہیں کہ اکراہ سابق زائل ہوچکا اور لاحق معدوم وموہوم ہے۔ردالمحتارمیں ہے:
|
فی الہندیۃ عن المبسوط ارسلہ لیفعل فخاف ان یقتلہ ان ظفر بہ ان لم یفعل لم یحل [2]۔ |
ہندیہ میں مبسوط سے منقول ہے کہ اگر کسی نے دوسرے کو کام کرنے کے لئے بھیجا تو اس کو خطرہ ہے کہ اگر میں نے اس کا یہ ناجائز کام نہ کیا تو مجھے قتل کر دے گاتو اس اندیشہ پر اس کو ناجائز کام کرنا حلال نہ ہوگا۔(ت) |
اسی میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع