30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اھل خیبر کان خراجہ مقاسمۃ بطریق الامن والصلح وھو جائز،الا ان الفتوی علی قولہما لحاجۃ الناس الیہا ولظہور تعامل الامۃ بہا والقیاس یترك بالتعامل کمافی الاستصناع [1] اھ مختصرًا۔ |
حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا اہل خیبر سے زمین کامعاملہ تو وہ امن کے عوض اخراج کی وصولی تھی جوکہ جائز ہے لیکن اس مسئلہ میں فتوی صاحبین کے قول پر ہے لوگوں کی ضرورت اور امت کا تعامل پایا جانے کی وجہ سے جبکہ قیاس کو تعامل کے مقابلہ میں ترك کیا جاتاہے جیساکہ سائی کی چیز بنوانا اھ مختصرًا۔(ت) |
غرض ایسے تعاملات ضرور حجج مطلقہ ہیں انھیں مطلقا مقابل نص مردودنہیں کہہ سکتے اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ عرف وتعامل جس میں ان کا کلام ہے معارضہ نص کی اصلا طاقت نہیں رکھتا جب خلاف کرے گا رد کردیا جائے گا۔اشباہ میں ہے:
|
انما العرف غیر معتبر فی المنصوص علیہ [2]۔ |
منصوص علیہ معاملہ میں عرف معتبر نہیں ہے۔(ت) |
پھر فتاوٰی ظہیریہ سے نقل کیا:
|
محمد بن الفضل یقول السرۃ الی موضع نبات الشعر من العانۃ لیست بعورۃ تعامل العمال فی الابداء عن ذٰلك الموضع عند الاتزار وفی النزع عن العادۃ الظاھرۃ نوع حرج ھذا ضعیف وبعید لان التعامل خلاف النص لایعتبر انتہی بلفظہ [3] اھ۔ |
محمد بن فضل فرماتے ہیں کہ ناف سے نیچے بالوں کی جگہ تك عورت نہیں ہے کیونکہ تہبند باندھنے کے وقت اس حصہ کو برہنہ کرنا لوگوں کا تعامل ہے اور لوگوں کی غالب عادت سے ان کو روکنا حرج کی بات ہے۔اور یہ قول ضعیف اور بعید ہے کیونکہ نص کے خلاف تعامل معتبر نہیں ہے۔اس کے الفاظ ختم ہوئے اھ(ت) |
اسی میں فتاوی بزازیہ سے ہے:
|
فی اجارۃ الاصل استاجرہ لیحمل |
مبسوط کی بحث اجارہ میں ہے کہ کسی غلّہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع