30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حسن عدل،قبح ظلم وتقدیم قاطع علی المظنون کی طرح امور ضروریہ ہیں۔جن پر اتفاق عقلاء کی عقل خود شہادت دے،نہ ایسے مسائل نزاعیہ تھے جن کی نفی واثبات ورد واحقاق میں فرقے بن گئے ہوں،نہ سالہاسال تحصیل فتاوٰی فقہائے امصار وعلمائے اقطار میں سخت وبلیغ کوششیں ہوئی ہوں،بعد مرور دہور وکرعصور قرائن خارجیہ سے اتفاق اکثرکا علم حاصل ہولیا،اس کے بعد ائمہ نے بربنائے تعامل فتوٰی دیا ہو،ہمیشہ لاجرم اپنے ہی قطرکے بلاد کثیرہ میں عمل غالب کا نام عرف وتعامل رکھا اور اسی کو مبنائے احکام قرار دیا ہے۔انصاف کیجئے تو امر واضح ہے اور انکار مکابرہ او رشکوك بے معنی کی راہ کب بند،مگر عندالله انصاف جب صبح مسفر ہوتو تشکك ناپسند،واﷲیقول الحق وھو یھدی السبیل(الله تعالٰی کا قول ہی حق ہے اوروہی راستہ بتاتاہے۔ت)
خامسًا: ایں وآں پرکیوں نظرکیجئے خود حضرات علمائے کرام ہی سے نہ پوچھ لیجئے کہ عرف و تعامل سے مراد حضرات کیاہوتی ہے صدہا جگہ علمائے مستدلین استدلال بالعرف کے ساتھ تصریح فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے دیار کا عرف ہے یہ فلاں بلا دکا تعامل ہے انھیں مسائل مذکورہ میں دیکھیں محقق حیث اطلق مسئلہ سوم میں فرماتے ہیں:
|
مثلہ فی دیارنا شراء القبقاب [1]۔ |
اسی طرح ہمارے علاقہ میں کھڑاؤں کو خریدنا۔(ت) |
حاوی عــــــہ پھر خلاصہ پھر فتح پھر ردالمحتار مسئلہ بست ودوم میں:مثل ھذا کثیر فی الری وناحیۃ دماوند [2](رے اور دماوند کے علاقہ میں ایسا کثیر ہے۔ت)ظہیریہ وہندیہ بست وسوم
|
عــــــہ: ذکر مسألۃ وقف الکروالاکسیۃ نقلہا سند مونی فی الخلاصۃ ثم قال المسائل الثلث فی الحاوی وانما لم نعدہ فیما مرلان الشامی نقلہا عن الفتح والفتح عنہا و لم یذکر العزوللحاوی ۱۲۔ |
پیمانہ کُر اور کپڑوں کے وقف کا مسئلہ سند مونی نے خلاصہ میں ذکر کیا ہے پھر کہا تینوں مسائل حاوی میں ہیں اورمیں نے گزشتہ مقام پر اس کو صرف اسی لئے شمار نہ کیا کیونکہ علامہ شامی نے فتح سے اور اس میں خلاصہ سے نقل کیا ہے اور انھوں نے حاوی کی طرف منسوب نہ کیا(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع