30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیز فواتح میں ہے:
|
تحقیق المقام ان فی القرون الثلثۃ لاسیما القرن الاول قرن الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کان المجتہدون معلومین باسمائہم واعیانہم و امکنتہم خصوصا بعد وفاۃ رسول ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم زمانا قلیلا ویمکن معرفۃ اقوالہم و احوالہم للجادفی الطلب۔نعم لا یمکن معرفۃ الاجماع ولاالنقل الآن لتفرق العلماء شرقا وغربا و لایحیط بہم علم احد [1] اھ ملخصین۔ |
مقام کی تحقیق یہ ہے کہ پہلے تین قرن خصوصا صحابہ کرام رضی الله تعالٰی عنہ کا قرن(زمانہ)جو اول قرن ہے اس میں مجتہدین حضرات اپنے ناموں،ذاتوں اور مقامات کے اعتبار سے خصوصا حضو رعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے وصال شریف کے بعد قلیل زمانہ تك معروف تھے اور ان کے اقوال واحوال کی معرفت کے لئے جدوجہد کرنا ممکن تھا،ہاں آج اجماع کی معرفت ممکن نہیں اور نہ ہی اس کونقل کرنا ممکن رہا کیونکہ علماء کرام شرقا غربا متفرق ہوچکے ہیں جن کو کسی ایك شخص کا علم احاطہ نہیں کرسکتا،اھ مذکور دونوں عبارتیں ملخص ہیں (ت) |
جب صر ف مجہتدین کا اتفاق معلوم نہیں ہوسکتا تو عرف وتعامل جس میں اجتہاد درکنار علم بھی درکنار نہیں،علماء وجہلاء سب کا علمدرآمد ملحوظ ہے۔اس میں اتفاق کل کیا معنی،اتفاق اکثر کا علم بھی بدرجہ اولٰی محال وناممکن ہے کہ آخر اکثر کل کل علماء سے ضرور اکثر ہے۔
رابعًا: کیاکوئی ایك بارکا بھی نشان دے سکتاہے کہ ائمہ کرام ومشائخ اعلام نے جب ایك امر میں بربنائے عرف وتعامل حکم فرمانا چاہا ہو تو تمام بلاد وبقاع عالم کے تمام مسلمین کے عرف وعمل کی خبر معلوم فرمالی،ہر ہر شہر وقریہ ودرہ کوہ وجزیرہ وبادیہ میں تحقیق تعارف کے لئے شہود عدل بھیجے ہوں،تمام اسلامی جہاں کی مردم شماری مفتح کی ہو پھر بعد ثبوت حصر وشمار بلحاظ کل نہیں بلحاظ اکثر ہی حکم دیا ہو۔یا بلا تفتیش خودہی پیش از حکم ان تمام امور کے پرچے ان کی خدمات عالیہ میں گزرتے ہوں،حاشا لله ہر گز نہیں نہ کبھی اس کا قصد فرمایا نہ اصلا اس کی طرف راہ تھی،نہ یہ امور تعامل مسائل عقائدتھے جن پر سواد اعظم کااتفاق دلائل وبراہین شرع سے خود ہی معلوم ہے۔نہ یہ
[1] فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی الاصل الثالث الاجماع منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲/ ۱۳۔۲۱۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع