30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی قدر دنیوی ترقیاں ہیں جسے دنیا پرست عبید النفس ترقی گارہے ہیں زمانہ مشائخ کرام رضی الله تعالی عنہم میں ان آسانیوں سے ایك بھی نہ تھی،اب اس تیسر اسباب وتفتح ابواب ہی کے زمانے میں کوئی شخص ٹھیك ٹھیك طور پر بتادے کہ آفاق واقطار، شرق وغرب وجنوب وشمال کے بلاد وقری و صحارٰی وجزائر وجبال میں حقیقی مسلمان جن کا عرف شرعا ملحوظ ومقصود ہو نہ نیچیری وغیرہم کفار مدعیان اسلام کہ ان جیسے کروڑوں کا تعامل ہو تو مطلقا مردود ہوں کہاں کہاں آباد ہیں ہرجگہ کے سچے مسلمانوں کی صحیح مردم شماری کیا ہے کسی معاملہ خاص میں ان میں ہر ایك کا عرف وعمل کس طور پر رہا ہے،حصر بلاد وشمار عباد جوکچھ بیان کرے اس پر دلیل معقول قابل قبول دکھائے،نہ یہ کہ فلاں سال کی مردم شماری میں اسی قدر معدود فلاں اطلس میں اتنے ہی موجود کہ اس حصر اور اس کے جامع ومانع ہونے کی جوقعت ہے ہر ذی عقل وانصاف کو معلوم ومشہود،مردم شماری تو محض مہمل ومختل اٹکل ہے،اطلسیں جن کے محکمے مقررہیں اور بڑے بڑے انتظام کروڑوں کے صرف ہیں اور ہزاروں اہتمام حصرو شمار بقاع درکنار جو آنکھوں دیکھی اور قواعد مضبوطہ ہیات پر مبنی ہے یعنی عرض وطول بلاد اس میں اختلاف دیکھئے،کبھی دو اطلسیں متفق نہ پائے گا ع
ہرکہ آمد عمارت نوساخت
(ہر آنے والا نئی عمارت تعمیر کرتاہے۔ت)
سبحان الله ! اجماع شرعی جس میں اتفاق ائمہ مجتہدین پر نظر تھی،علماء نے تصریح فرمائی کہ بوجہ شیوع وانتشار علماء فی البلاد دوصدی کے بعد اس کے او راك کی کوئی راہ نہ رہی مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے:
|
(قال الامام احمد من ادعی الاجماع)علی امر(فہو کاذب والجواب انہ محمول علی حدوثہ الاٰن)فان کثرۃ العلماء والتفرق فی البلاد الغیر المعروفین مریب فی نقل اتفاقہم [1]۔ |
امام حمد رحمہ الله نے فرمایا جو کسی معاملہ میں اجماع کا دعوٰی کرے تو جھوٹا ہے،اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کی بات موجود دور کے واقعہ یہ ہے کہ محمول ہے کیونکہ علماء کی کثرت اور غیر معروف علاقوں میں ان کا متفرق ہوجانا ان کے اتفاق کو نقل کرنے میں شہبہ پیدا ہوتاہے۔(ت) |
[1] فواتیح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفٰی الاصل الثالث الاجماع منشورات الشریف الرضی قیم ایران ۲/ ۲۱۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع