30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صح اھ ومثلہ فی الخانیۃ قال فی النہر بخلاف خیاطۃ الثوب العدم لتعارف اھ قال فی المنح فان قلت نہی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن بیع وشرط فیلزم ان یکون العرف قاضیا علی الحدیث قلت لیس بقاج علیہ بل علی القیاس لان الحدیث معلول بوقوع النزاع المخرج للعقد عن المقصود بہ وھو قطع المنازعۃ والعرف ینفی النزاع فکان موافقا لمعنی الحدیث فلم یبق من الموانع الاالقیاس والعرف قاض علیہ اھ قلت وتدل عبارۃ البزازیۃ والخانیۃ و کذا مسئلۃ القبقاب علی اعتبار العرف الحادث و مقتضی ہذا انہ لوحدث عرف فی شرط غیرالشرط فی النعل و الثوب والقبقاب ان یکون معتبرا اذا لم یؤد الی المنازعۃ [1]۔ |
صحیح ہے،اور اسی کی مثل خانیہ میں ہے،نہر میں فرمایا بخلاف کپڑے کی سلائی،کیونکہ اس میں تعارف نہیں،اھ منح میں فرمایا کوئی یہ اعتراض کرے کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے بیع اور اس کے ساتھ شرط لگانے سے منح فرمایا ہے تو اس سے لازم آجائیگا کہ عرف حدیث پر غالب ہے۔میں کہتاہوں عرف حدیث پر غالب نہیں بلکہ عرف قیاس پر غالب ہے کیونکہ حدیث میں منع کی علت جھگڑا ہے جس کی وجہ سے عقد بے مقصد بن جاتاہے جبکہ عقد کا مقصد جھگڑے کو ختم کرنا ہوتاہے اور عرف اس جھگڑے کو ختم کرتا ہے تو اس طرح عرف حدیث کے موافق ہوا تو اب صرف قیاس مانع ہے جس پر عرف غالب ہوا اھ۔میں کہتاہوں اس پر بزازیہ اور خانیہ کی عبارت دال ہے،اور یونہی کھڑاؤں کا مسئلہ جدید عرف پرمبنی ہے تو اس کا مقتضی یہ ہے کہ اگر جوتے،کپڑے اور کھڑاؤں میں مذکورہ شرط کے علاوہ کوئی اور شرط عرف میں جاری ہوجائے تو وہ بھی معتبر ہوگی بشرطیکہ وہ جھگڑے کا باعث نہ ہو۔(ت) |
ہندیہ میں تاتارخانیہ سے ہے:
|
ان اشترط صرما علی ان یخرز البائع لہ خفااوقلنسوۃ بشرط ان یبطن لہ البائع من عندہ فالبیع بہذا الشرط جائز للتعامل [2] |
اگر چمڑے کا ٹکڑا جوتا بنادینے کی شرط پر خریدایا ٹوپی استرلگادینے کی شرط پر خریدی کہ بائع اپنے پاس سے لگائے تو تعامل کی وجہ سے اس شرط پر بیع جائز ہوگی(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع