30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اوللمعقود علیہ وھو من اہل الاستحقاق یفسدہ الا ان یکون متعارفالان العرف قاض علی القیاس [1]۔ |
کیا جائے تو وہ بیع کو فاسد کردے گی بشرطیکہ عرف میں وہ شرط معروف نہ ہو کیونکہ قیاس پر عرف غالب ہوتاہے۔ (ت) |
تنویر الابصار ودرمختارمیں ہے:
|
الاصل الجامع فی فسادالعقد بسبب شرط(لا یقتضیہ العقد ولایلائمہ وفیہ نفع لاحدھما او لمبیع من اہل الاستحقاق ولم یجز العرف بہ ولم یرد الشرع بجوازہ)امالو جری العرف بہ کبیع نعل مع شرط تشریکہ او ورد الشرع بہ کخیار شرط فلا فساد [2]۔ |
کسی شرط کی وجہ سے عقد کے فساد کا سبب قاعدہ کی رو سے ایسی شرط ہے جس کونہ توعقد قبول کرے اورنہ ہی وہ عقد کے مناسب ہو اور اس شرط میں فریقین یا نفع کا مستحق ہو تو مبیع کا فائدہ ہوبشرطیکہ اس شرط پر عرف قائم نہ ہو اور نہ ہی شریعت نے اس کے جواز کو بیان کیا ہو لیکن اگر عرف میں اس کا جواز مروج ہو جیسے پیشگی آرڈر پر جو تاسلوانا یا اس شرط کے جواز پر شریعت وارد ہوجیسا کہ شرط خیار،تو فساد نہ ہوگا۔(ت) |
مسئلہ ظاہر ہے اور تمام کتب مذہب میں دائر،اور مقیس کی طرف وہی حکم متعدی ہوگا جو اصل مقیس علیہ میں تھا نہ کہ زائد، لا جرم متن غرر میں فرمایا:
|
تفسد بالشرط المفسد للبیع [3]۔ |
اجارہ،بیع کی فاسد شرطوں سے فاسد ہوجاتاہے۔(ت) |
متن نقایہ میں فرمایا:یفسدھا شروط تفسد البیع [4](بیع کو فاسد کرنیوالی شرطیں اجارہ کو فاسد کردیتی ہے۔ت)متن اصلاح میں تھا۔الشرط یفسدھا [5](مراد وہ شرط ہے جو بیع کو فاسد کردیتی ہے۔ت)شرح ایضاح میں فرمایا:المراد شرط یفسد البیع [6](مراد وہ شرط ہے جو بیع کو فاسد کردیتی ہے۔ت)
بحث ثانی:کیا لازم ہےکہ وہ عرف زمان اقدس حضور پر نور سیدالمرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے واقع ہو،اقول:بعض علماء کی تقریر میں ایسا واقع ہوا لیجعلہ من تقریر
[1] الہدایۃ کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۶۲
[2] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷
[3] الدرالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ میر محمد کارخانہ کراچی ۲/ ۲۳۰
[4] مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ کتاب الاجارۃ نور محمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۲۔۱۱۱
[5] اصلاح
[6] شرح ایضاح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع