30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال حدثنی عمر وبن شعیب عن جدہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم[1] ومن طریق الامام رواہ الطبرانی فی معجمعہ الاوسط [2]والحاکم فی علوم الحدیث ومن جہتہ ذکرہ عبدالحق فی احکامہ وسکت عنہ قال ابن القطان(وھو علی بن محمد الحموی الفاسی ذاك المتاخر المیت ۶۲۸ ثمان وعشرین وستماۃ)فی کتاب الوھم والایہام(ولااری ھذا الاسم الابالہام فانہ قد وھم فیہ واوہم فی کثیر من المقام)بعد ماذکر الحدیث المذکور من کتاب الاحکام علتہ ضعف ابی حنیفۃ فی الحدیث [3]اھ اقول: عفااﷲ عنك یاابن القطان الست ذٰلك المعروف المشہور بالتعنت فی الرجال حتی اخذت تلین ذٰلك الجبل الشامخ ھشام بن عروۃ ولو اجتمعت انت ومؤن من امثالك وامثال شیوخک |
رضی الله تعالٰی عنہ نے روایت کیا،انھوں نے فرمایا مجھے یہ حدیث عمرو بن شعیب نے اپنے دادا سے انھوں نے نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے بیان کی اور امام صاحب رحمہ الله تعالٰی علیہ کے طریقہ سے اس کو طبرانی نے معجم الاوسط اور حاکم نے علوم حدیث میں اور امام صاحب کے طریقہ سے اس کوعبدالحق نے اپنے احکام میں ذکر کیا اور جرح نہ کی،ابن قطان(اور وہ علی بن محمد حمیر ی فاسی متاخرین میں ہیں ان کی وفات ۶۲۸ھ میں ہوئی ہے)نے اپنی کتاب"الوھم والایہام" میں کہا(میری رائے میں کتاب کایہ نام الہامی ہے کیونکہ ان کو اسی کتاب میں بہت سے وہم لاحق ہوئے اور کئی مقامات پر اس نے وہم پیدا کئے ہیں)اس نے اس کتاب میں اس حدیث کو"کتاب الاحکام"سے نقل کرکے کہا کہ اس حدیث میں کمزوری یہ ہے کہ اس کے روای ابوحنیفہ حدیث میں ضعیف ہیں اھ اقول:(میں کہتاہوں)ابن قطان تجھے الله تعالٰی معاف فرمائے کیا آپ وہی نہیں جو رجال حدیث کے متعلق ہٹ دھرمی میں مصروف ہیں۔تو نے ایك بلند پہاڑ(ہشام بن عروہ)پر طعن شروع کردیا ہے اور تو اور تیرے جیسے سیکڑوں اور تیرے مشائخ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع