دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 19 | فتاوی رضویہ جلد ۱۹

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۹

وہ راہ میں جاتا رہتا تو اس کا کیا نقصان تھا کہ بحکم قرارداد یہ ضمان کا مستحق ہوچکا،بلکہ یہ ضابطہ تو بعض اوقات بھیجنے والوں کو الٹا نقصان دیتاہے،کہ مصرو عرب وشام وغیرہ ممالك کو روپیہ بھیجے تو یہاں سے لندن جاکر ازانجا کہ وہاں سکہ سیم نہیں سکہ زر سے تبدیل کیا جاتا اور اس پر بہت کچھ بٹالیا جاتاہے،غرض اس فرض قرض میں مرسلوں کا کوئی نفع نہیں ہاں اُجرایعنی ابالی ڈاك نے اپنے آسائش وتحفظ کے لئے یہ ضابطہ وضع کیا،ذمہ داری بیمہ ومنی آرڈر دونوں میں تھی،مگر پارسل کا بند مال مہر میں لگا ہوا قابلیت تبدیل نہ رکھتا تھا،روپے میں یہ صورت میسر تھی اور شك نہیں کہ مال بھیجنے سے کاغذ بھیجنا آسان اور اس میں ان ذمہ داروں کے لئے خطر طریق سے امان،لہذ ایہ ٹھہرالیا کہ زرداخل کردہ یہیں رکھ کر وہاں لکھ بھیجیں گے،اگر بفرض غلط اس صورت میں ڈاك خانہ کو مستقرض مانا جائے تو اس میں مستقرض نے استقراض سے نفع اٹھایا نہ کہ مقرض نے اقراض سے،اور مستقرض انتفاع بالقرض سے ممنوع نہیں تو یہاں یدفعہ قرضا یستفید بہ(کسی فائدہ کے حصول کے لئے قرض دیا۔ت) صادق نہیں بلکہ یاخذ قرضا یستفید بہ،ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق(قرض فائدہ کے لئے لیتا ہے،تحقیق یوں چاہئے،اور توفیق کا مالك الله تعالٰی ہی ہے۔(ت)

بالجملہ یہ وجوہ تو جوازمنی ارڈر پر کچھ اثر نہیں ڈال سکتیں،ہاں یہاں ایك اور امر قابل نظر و غور تھا اذہان مفتیان اگر اس طرف جاتے توکہا جاتا کہ طرف فقہی پر کلام کیا وہ یہ کہ بلا شبہہ یہ عقد عقد اجارہ اور فیس اجرت عمل۔اور قرض تنہا پر نفع مستقرض اور سفاتج پر قیاس مختل،مگر جبکہ یہ قرض مفروض و داخل ضابطہ ہے تو اجارہ ایسی شرط پر ہوا جس میں احدالعاقدین کا نفع ہے اور مقتضائے عقد نہیں،اسی قدر منع وفساد عقد کے لئے بس ہے ولکنی اقول وبحول اﷲ تعالٰی اجول(لیکن میں الله تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں اور الله تعالٰی کی دی ہوئی طاقت سے لکھتاہوں۔ت)

ہنوز بلوغ شرط تاحدافساد میں اور شرط باقی ہے کہ عرف ناس اس شرط کے ساتھ جاری نہ ہو،ورنہ بحکم تعارف جائز رہے گی اور صحت جواز عقد میں کچھ خلل نہ ڈالے گی،منی آرڈر کا نہ صرف تمام بلاد وامصار واقطار ہندیہ بلکہ دیگرممالك اسلامیہ میں بھی دائر وسائر ہونا تو محتاج بیان نہیں،مگر فقیر وہ کلمات علماء چند ابحاث میں ایراد کرے جو اس مسئلہ شرط کو واضح کرکے بعونہ تعالٰی مانحن فیہ کا حکم روشن کردیں،بحث اول شرط سے اصل نہیں منصوص دربارہ بیع وارد کہ:

نہی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من بیع الشرط، رواہ ابوحنیفۃ

حضور نبی پاك صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے شرط والی بیع سے منع فرمایا،اس کو امام ابوحنیفہ

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن