30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثم اقول:وبہ استعین۔ان مفتیان زمانہ کے خیالات تو محض اباطیل مہملہ ومہملات باطلہ جن کی حاجت بھی نہ تھی مگر اس تقریر منیر سے بحمدالله سبحنہ وتعالٰی وہ شبہ بھی حل ہوگیا جسے نظر فقہی سے علاقہ ہے اور بادی النظر میں خادم فقہ کا ذہن اس طرف جاسکتا ہے یعنی سفاتج پر منی آرڈر کا قیاس،ہمارے علمائے کرام نے سفتیجہ یعنی ہنڈوی کو ناجائز رکھا کہ ہر مقرض اس قرض دینے سے سقوط خطرطریق کا استفادہ کرتاہے اور وہ فضل خالی عن العوض ہے کہ بربنائے قرض اس نے حاصل کیا وکل قرض جرمنفعۃ فھو ر با(جو قرض نفع مند ہو وہ ربا ہے۔ت)بظاہر منی آرڈر وہنڈوی دونوں دوسری جگہ روپیہ بھیجنے کے طریق ہیں جس کے باعث نظر دھوکا کھاتی ہے دونوں کا حال ایك ہے حالانکہ اگر ذرا تامل کو کام میں لائے تو آفتاب روشن کی طرح متجلی ہوکہ ان میں باہم زمین وآسمان کا فرق ہے۔ہنڈوی محض قرض ہے اور اس میں قرض دینا خاص مرسل کی غرض اور اس کے ذریعہ سے اسے سقوط خطر کی منفعت حاصل،تو قرض جرمنفعۃ فہو ربا بلا شبہ صادق،ہنڈوی کرنے والوں کی کوٹھیاں دادوستد ہی کے لئے موضوع ہیں،نہ اجیر بننے کے لئے مرسل اگر مال قرض نہ دیتا امانت رہتا اور بحال ہلاك تاوان نہ پاتا فلہذا قرض دیتا ہے اور اس سے یہ نفع حاصل کرتا ہے،علماء نے سفتیجہ کی تفسیر ہی یہی فرمائی، ہندیہ میں کافی اور ردالمحتارمیں کفایہ سے ہے:
|
واللفظ للشامی صورتہا ان یدفع الی تاجر مالاقرضا لیدفعہ الی صدیقہ وانما یدفعہ قرضا لا امانۃ لیستفید بہ سقوط خطر الطریق [1]۔ |
شامی کے الفاظ میں ہے کہ اس کی صورت یہ ہے کہ تاجر کوقرض دیا کہ وہ یہ قرض میرے دوست کو پہنچا دے اور رقم امانت کی بجائے قرض کی صورت میں د ی تاکہ راہ کے خطرہ سے محفوظ رہے۔(ت) |
بخلاف ڈاك خانہ کہ اجیر مشترك کی دکان ہے اور اس کی وضع ہی اجیر بننے کے لئے جو فیس دی جاتی ہے یقینا اجرت ہے اور اقرار ذمہ داری اور ان اقوال مفتٰی بہا کی بنا پر حکم شرعی وصحیح ومقبول ہی لزوم ضمان کے لئے کافی ووافی،مرسل کی غرض نفس عقد اجارہ سے حاصل،اور صرف اسی قدر افادہ سقوط خطر کے لئے متکفل،قرض دینے سے اس کی کوئی غرض اصلا متعلق نہیں،نہ اس کافائدہ اس کی طرف راجع،فرض کیجئے اگر ڈاکخانہ زر منی آرڈر بعینہٖ بھیجا کرتا تو اس کا کیا حرج تھا کہ اسے تو روپیہ بھیجنے سے کام ہے اوراگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع