30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یبرأ بیمینہ ولوکان بخلافہ یضمن،ولو کان مستورا یؤمر بالصلح فہذہ اربعۃ اقوال کلہا مصححۃ مفتی بہا وامااحسن التفصیل الاخیر [1] اھ مختصرا۔ |
اور غیر صالح ہو تو ضمان لیا جائے اور مستورالحال ہو تو صلح کا فیصلہ دیا جائے تو یہ چارقول ہوئے،اور تمام کے تمام پر فتوٰی صحیح ہے اور آخری تفصیل کیا اچھی ہے اھ مختصرا۔(ت) |
فتاوٰی حامدیہ میں ہے:
|
اختارابوجعفر وابواللیث رحمہما الله تعالٰی فیہ ان کان صالحا یبرء بیمینہ وان کان مستورا یؤمر بالصلح و افتی بذٰلك کثیر من المتاخرین وھو اولٰی من غیرہ و اسلم وبمثلہ افتی الخیر الرملی[2]۔ |
ابو جعفر اور ابواللیث کا مختار یہ ہے کہ اگر وہ صالح شخص ہو تو قسم لے کر بری کردیا جائے،اور اگر وہ مستور الحال ہو تو صلح کا فیصلہ کیا جائے اس پر بہت سے متاخرین نے فتوٰی دیا ہے اور یہ قول دوسروں کی نسبت اولٰی ہے اور خیر الدین رملی نے اسی طرح فتوٰی دیا ہے۔(ت) |
منح الغفار وطحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
|
ھو فتوٰی القاضی الامام جلال الدین الزاھدون [3]۔ |
امام جلال الدین زاہدون کا یہی فتوٰی ہے۔(ت) |
بالجملہ چار قول مفتٰی بہ سے دو قول پر بیمہ ومنی آرڈر وغیرہما میں ڈاکخانہ سے یہ قرارداد ضمان جائز وصحیح ومقبول ہے اور انسان کو عمل ونجات کے لئے ایك ہی قول مفتٰی بہ کافی نہ کہ متعدد نہ کہ جب وہی ارفق وہی استحسان ہونے کے علاوہ حالت زمانہ اسی کے داعی اور وہی حفظ اموال ناس کا مراعی ہوباوصف ان شدتوں سختیوں کے جو قوانین ڈاك میں ضیاع مال بیمہ ومنی آڈر پر رکھی ہیں کہ نوکریاں جائیں قیدیں اٹھائیں سزائیں پائیں،پھر بھی خائنوں بددیانتوں کی کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں عدم ذمہ داری کی حالت میں ظاہر ہے جو کچھ ہوتاہے تو فقیہ نبیہ اس شرط پر ضمان کے جواز میں اصلا ترددنہ کرے گا۔وبالله التوفیق۔
[1] فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۲/ ۱۴۱،الفتاوٰی الاسعدیۃ کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر المطبعۃ المخربۃ مصر ۲/ ۲۷۶
[2] العقود الدریۃ فی تنقیح الحامدیۃکتاب الاجارۃ ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۱۴۔۱۱۳
[3] حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع