30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وکان یقول بعدم الضمان قال الفقیہ ابواللیث رحمہ اﷲ تعالٰی وبہ ناخذ ونحن نفتی بہ [1]اھ،قلت ومعنی ھذا الکلام ان الفقیہ ابا جعفر کان یستوی بینہما علی قول الامام وکان یقول لایضمن عندہ وان شرط اماھو بنفسہ فقد کان یمیل الی قولہما کما قدمنا عن الخانیۃ عن الفقیہ ابی اللیث۔ |
اور ضمان کا قول نہ کرتے،اور فقیہ ابواللیث نے فرمایا ہمارایہی موقف ہے،اور ہم یہی فتوٰی دیں گے۔اھ میں کہتاہوں اس کلام کا مطلب یہ ہے کہ فقیہ ابوجعفر فرماتے ہیں کہ امام صاحب کے قول پر دونوں صورتیں مساوی ہیں اگر چہ شرط بھی لگائی ہو ضامن نہ ہوگا،لیکن ان کا اپنا رجحان صاحبین کے قول پر ہے جیسا کہ ہم نے خانیہ سے ابواللیث کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔(ت) |
قنیہ واشباہ میں ہے:
|
محلہ عندعدم اشتراط الضمان علیہ امامعہ فیضمن اتفاقا [2]۔ |
اس کا محل ضمان کی عوم شرط ہے لیکن شرط کی صورت میں بالاتفاق ضامن ہوگا۔(ت) |
جمہورا ئمہ متاخرین نے ائمہ مذہب وصحابہ وتابعین رضی الله تعالٰی عنہم کے اختلافات دیکھ کر وہ قول فیصل اختیار فرمایا کہ اجیر اگر صلحائے متقین سے ہے تو قول امام مختار یا اس کے خلاف ہے تو قول صاحبین وایجاب ضمان اور مستور الحال ہے تو دونوں قول کے لحاظ سے نصف ضمان واجب نصف ساقط،اور شك نہیں کہ یہ قول جامع الاقوال ومراعی احوال وارفق بالناس واحفظ للاموال ہے کہ تغیر حالات زمانہ اس پر حامل ہو اور اس میں ارفق واحتیاط دونوں پہلو کا لحاظ رہا،امید کی جاتی ہے کہ اگر امام یہ زمانہ پاتے یونہی حکم فرماتے۔فتاوٰی خیریہ وفتاوٰی اسعدیہ میں ہے:
|
مسئلۃ الاجیر المشترك فیہا ثلثۃ اقوال بل اربعۃ عدم الضمان مطلقا و الضمان مطلقا والصلح علی النصف جبرا عملا بالقولین وفی جامع الفصولین رامزا لفوائد صاحب المحیط لوکان الاجیر صالحا |
مشترك اجیر کے مسئلہ میں تین بلکہ چار قول ہیں،مطلقا عدم ضمان،مطلقا ضمان،نصف نقصان پر جبرًا ضمان تاکہ دونوں اقوال پر عمل ہو،اور جامع الفصولین میں صاحب محیط کے فوائد کا اشارہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر اجیر صالح شخص ہے تو قسم لے کر بری کیا جائے گا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع