30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کذا فی شرح الوقایۃ وھو قول الفقیۃ ابی بکر والفقیۃ ابواللیث یفتی بانہ لو شرط علیہ الضمان لایصح [1]۔ |
شرح وقایہ میں یوں ہے،اور یہ ابوبکر کا قول ہے۔اور فقیہ ابو اللیث کا فتوٰی یہ ہے کہ اگر اس پر ضمان کی شرط لگائی تو صحیح نہیں ہے۔(ت) |
وجیز امام کردری نوع فی الحمامی میں نوازل سے ہے:
|
دخل الحمام وقال للحمامی احفظ ہذہ الثیاب فخرج ولم یجدھا ان شرط علیہ الضمان یضمن اجماعا ان سرق اوضاع والالا [2]۔ |
حمام میں داخل ہوا اور حمام والے کو کہاان کپڑوں کی حفاظت کرنا وہ حمام سے نکلا تو کپڑوں کو غیب پایااگر اس نے حمام والے پر ضمان کی شرط لگائی تھی تو بالاتفاق ضامن ہوگا اس نے چوری یا ضائع کئے ہوں ورنہ نہیں(ت) |
اس کے بعد خود فرمایا:
|
وقد ذکرنا انہ لاتاثیرللشرط وتاویلہ انہ لما شرط علیہ الضمان فقد قابل الاجر بہما فیکون علی الخلاف فی المشترك [3]۔ |
ہم نے ذکر کردیا ہے کہ شرط کا کوئی اثر نہیں ہے تو اس کی تاویل یوں ہوگی کہ اگر اس نے شرط قبول کرلی تو گویا اس نے دو چیزوں پر اس کو اجیر بنالیا لہذا یہ مشترك اجیر کی صورت کے خلاف معاملہ ہوا۔(ت) |
ذخیر ہ وخلاصہ وعمادیہ وغمز العیون وغیرہ میں ہے:
|
و ھذا اللفظ للذخیرۃ کان الفقیہ ابوبکر یقول ضمن الحمامی اجماعا وکان یقول انما لا یضمن الاجیر المشترك عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی اذا لم یشترط علیہ الضمان اما اذا شرط یضمن وکان الفقیہ ابو جعفر یستوی بین شرط الضمان وعدم الشرط |
ذخیرہ کے الفاظ میں ہے کہ ابوبکر فقیہ،حمام والے کو بالاجماع ضامن قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ امام ابوحنیفہ رضی الله تعالٰی عنہ کے نزدیك مشترك اجیر پر جب شرط ضمان نہ لگائی تو وہ ضامن نہ ہوگا لیکن اگر شرط لگادی تو ضامن ہوگا اور فقیہ ابوجعفر شرط اور عدم شرط کو مساوی قرار دیتے تھے اور ضمان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع