30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال الفقیہ ابو اللیث انما قال لانہ کان یمیل فی الاجیر المشترك الی قول ابی یوسف ومحمد [1]۔ |
فقیہ ابواللیث نے فرمایا انھوں نے یہ بات مشترك اجیر کے متعلق صاحبین کے قول کی طرف میلان کی وجہ سے فرمائی ہے۔(ت) |
امام اجل ابوبکر بلخی فرماتے ہیں خلاف اس صورت میں ہے جبکہ اجیر مشترك پر ضمان ٹھہرانہ لی جائے ورنہ اگرپہلے سے شرط ہو جائے جب تو بالاجماع اس پر ضمان لازم۔جامع الفتاوٰی والنوازل واشباہ والنظائر وغیرہما میں اسی پر جزم فرمایا۔فتاوٰی خلاصہ میں ہے:
|
شرط علیہ الضمان اذا ھلك یضمن فی قولہم جمیعا لان الاجیر المشترك انما لایضمن عند ابی حنیفۃ اذا لم یشترط علیہ الضمان اما اذا شرط یضمن قال الفقیۃ ابواللیث الشرط وعدم الشرط سواء لانہ امین [2]۔ |
ہلاك ہوجانے پر ضمان کی شرط لگائی تو بالاتفاق ضمان لیا جائے گا کیونکہ مشترکہ اجیر کے متعلق جب شرط نہ لگائی ہو تو امام ابو حنیفہ کے نزدیك ضمان نہیں لیا جائے گا لیکن شرط لگانے پر ان کے نزدیك بھی ضمان ہوگا۔فقیہ ابواللیث نے فرمایا شرط لگانا نہ لگانا برابر ہے کیونکہ وہ امین ہے۔(ت) |
انقرویہ میں شرح مجمع علامہ ابن فرشتہ سے ہے:
|
ان شرط ان یضمن لوہلك عندہ یضمن اتفاقا کذ ا فی الجامع وذکر فی الخانیۃ و تتمۃ الفتوٰی علی انہ لا یضمن [3]۔ |
اگر اس کے پاس ہلاك ہوجانے پر ضمان کی شرط لگائی تو بالاتفاق ضمان لیا جائے گا،جامع میں یوں ہے۔اورخانیہ اور تتمۃ الفتاوٰی میں ہے کہ ضمان نہیں لیا جائے گا۔(ت) |
شرح کنز ملامسکین میں ہے:
|
قیل اذا شرط الضمان علی الاجیر المشترك یصح عند ابی حنیفۃ وصار کان الاجر فی مقابلۃ العمل و الحفظ جمیعا۔ |
بعض نے کہا کہ مشترك اجیر پر ضمان کی شرط لگائی تو امام ابو حنیفہ رضی الله تعالٰی عنہ کے نزدیك صحیح ہے یوں وہ عمل اور حفاظت دونوں پر اجیر قرار پائے گا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع