دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 19 | فتاوی رضویہ جلد ۱۹

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۹

دلیل اول:روپیہ تلف ہوجائے تو بھیجنے والا طالب ضمان اور انگریز ذمہ دار،تو ثابت ہوا کہ اجارہ نہیں کہ محصول کو اجرت پر محمول کیاجائے۔

اقول اولًا:کیاوجوب ضمان مطلق نافی اجارہ ہے،کتب فقہ کا مطالعہ کیجئے صدہا صورتوں میں اجیر پر ایجاب ضمان کا حکم ہے،اور خاص ید ضمان کی ضرورت ہو تو ذرا اجیر مشترك میں اقوال ائمہ واختلاف فتوٰی ازمہ پر نظر ہو۔

ثانیًا:اطلاق نفی ضمان ہی مانئے تو غایت یہ ہے کہ طلب ضمان ناجائز ہو اور انگریزوں کا ذمہ بری،اس سے اصل عقد کیوں بدل گیا،بہت لوگ عاریت پر تاوان لیتے اور جاہل مستعیر ذمہ دار بنتے ہیں،کیا اس سے نفس عاریت منتفی ہوجائے گی،ہاں شاید یہ خیال کیا ہوکہ کلام مسلم حتی الامکان وجہ صحیح پر حمل کرنا چاہئے،جبکہ ہم نے اجارہ میں مطلقا ضمان بحالت ہلاکت طالب ضمان نہ مانی تو یہ طلب خلاف شرع ہوگی لہذا اجارہ نہ ٹھہرا نا چاہئے،مگر سبحان الله مسلمانوں کی اور طرفہ طرفداری کی کہ اسی خیال سے کہ صورت ہلاك میں جو بشدت نادرہے،کہیں طلب ضمان نہ کر بیٹھیں جو ایك مختلف فیہ ممنوع ہے،لہذا اصل عقد ہی ربا لازم ودائم مان کر مسلمانوں کو مرتکب حرام اجماعی ٹھہرا دیجئے،یعنی کشتن باید تاتپ نباید فرمن المطر ووقف تحت المیزاب (بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے کھڑا ہوا۔ت)

ثالثًا:کس نے کہاکہ اجارہ محضہ ہے معنی قرض یقینا متحقق اور رد مثل ا س کا خاص حکم،تویہ تضمین بربنائے اجارہ نہ ہو،بربنائے قرض سہی،اب اسے اجارہ سے کیا تنافی رہی۔

دلیل دوم:اجارہ ہو تو بعینہٖ اسی روپے کا پہنچانا لازم ہو،لیکن یہ امر نہ بھیجنے والا ضرورخیال کرتاہے۔نہ ڈاك والے کرتے ہیں۔

اقول:قطع نظر اس سے کہ یہ قیاس استثنائی کس اعلٰی درجہ نفاست پر ہے،تالی لزوم نفس الامری اور استثناء رفع خیال لزوم یارفع عمل کیا اگر عاقدین کسی حکم واقعی عقد کو اپنے ذہن میں لازم نہ سمجھیں،یا اس پر عمل نہ کریں تو اس سے وہ عقدعقد ہی نہ رہے گاعدم حکم مستلزم عدم عقد ہے یا عدم اعتقاد وعمل،اصل کلام وہی ہے کہ بیشك لازم ہوتا۔اگر اجارہ محضہ ہوتا یہاں تو ڈاکخانہ فلاں جگہ جاکر ادائے زر اور وہاں سے لاکر ایصال رسید پر اجیر اور زر داخل کردہ کا مستقرض ومدیون ہے تو جو چیز وہاں دے گا عین نہیں دین کا بعینہ پہنچانا کیونکر متصور اور اس کا لزوم کہاں کا حکم،بالجملہ ان داموں کی اجرت ہونے سے انکار کرنا اور عوض قراردے کر ربا ٹھہرانا یونہی صحیح تھا کہ اسے قرض محض خالی عن الاجارہ ثابت کرتے اور دونوں دلیلیں بغرض تمامی صرف اس قدر پر دال کہ وہ اجارہ محضہ نہیں،تو دلیل کو دعوٰی سے


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن