30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کالمذکور لفظا۔ |
چیز لفظوں میں مذکور کی طرح ہے۔(ت) |
یونہی ہر ذی عقل نبیہ پریہ بھی روشن ہے کہ یہ دوسرے دام اگر کسی کام کے عوض نہ دئے جاتے تو یہ عقد خالص قرض اور یہ زیادت بیشك ربا ہوتی یایوں ہوتاکہ جس کا م کے عوض دئے جاتے وہ کوئی منفعت مقصودہ صالح ورود عقد اجارہ نہ ہوتا تو بھی محض قرض رہتا مگر حاشایہاں ہر گز ایسا نہیں بلکہ وہ مثل سائر کا رروائیہائے ڈاکخانہ کے یقینا اجرت میں دینے والے اجرت ہی سمجھ کردیتے،لینے والے اجرت ہی جان کرلیتے ہیں ہر گز کسی کے خواب میں بھی یہ خیال نہیں ہوتا کہ یہ ۲/سود کے ہیں جو الٹا مدیون دائن سے لیتا ہے ڈاکخانے کی اصل وضع ہی اس قسم کی اجارات کے لیے ہے،تویہاں عقد اجارہ کا تحقق اور ان داموں کا اُجرت ہونا اصلا محل تردد نہیں،اگر کہے کا ہے کی اجرت ہاں مرسل الیہ کے گھر تك جانے اور اسے روپیہ دینے اور وہاں سے واپس آنے اور اس سے رسید لانے کی کیا یہ منفعت مقصودہ مباحہ نہیں جس پر شرعا ایراد وعقد اجارہ کی اجاز ت ہو،او ر جب ہے بیشك ہے تو عجب عجب ہزار عجب کہ عاقدین ایك منفعت مقصودہ جائزہ پر قصد اجارہ کریں عوض منفعت جو کچھ دیں اور اسے اجرت ہی کہیں اجرت ہی سمجھیں او رخواہی نخواہی ان کے قصد جائز کو باطل کرکے اس اجرت کو معاوضہ قرض وربا قرار دیں شرع مطہر میں معاذ الله اس حکم کی کوئی نظیر ہے،حاشالله بلکہ شرع میں مہما امکن تصحیح کلام وعقود پر نظر رہتی ہے کما لایخفی علی من خدم الفقہ(جیسا کہ فقہ کی خدمت کرنیوالے پر مخفی نہیں ہے۔ت)نہ کہ زبردستی ابطال وافساد وایقاع فی الفساد،پرکہ صراحۃً عکس مراد شرع ہے ایك ہلکی سی مثال پیش پاافتادہ یہی ہے کہ دس روپے دوآنے کے عوض دو روپے دس آنے خریدیں تو مالیت میں کھلا تفاضل اور جنس کو جنس سے ملائے تو وہ عین ربا مگر شرع مطہر جنس کو خلاف جنس کے طرف صرف فرماکرربا سے بچاتی ہے کما نصوا علیہ قاطبۃ(جیسا کہ سب نے اس پر نص فرمائی ہے۔ت)پس ثابت ہوا کہ صورت منی آرڈر میں اگرچہ اجارہ محضہ نہیں مگر زنہار وزنہار قرض محض بھی نہیں جیسا کہ ان مفتی صاحبان نے توہم کیا او ر اسی بناء پر فیس کو اجرت سے نکال کر ربا کردیا بلکہ یہاں حقیقۃً دونوں متحقق ہیں،اب شبہات حضرات تویکسر حل ہوگئے،وہ ۲/ ربا کا خیال بدیہی الضلال صرف اسی توہم پر مبنی تھا کہ یہ قرض محض ہے،جب ثابت ہوا کہ ایسانہیں بلکہ یہاں اجارہ بھی ہے اور یہ ۲/اُجرت ہیں نہ فضل خالی عن العوض،تو انھیں ربا کہنا محض جہالت،
بحمدالله اتنی ہی تقریر سے وہ دو دلیلیں بھی کہ یہاں تابع نے انتفائے اجارہ پر قائم کیں منتفی ہوگئیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع