30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کما ینبغی منکشف ہوسکتی ہے،خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا،مسئلہ دائرہ کی طرف رجوع کروں،اور توفیق الہٰی مساعدت فرمائے تو حقیقت منی آرڈر ایسی روشن وجہ پر بیان میں آئے جس سے ان صاحبوں کا شبہ باذنہٖ تعالٰی مستاصل ہوجائے۔
فاقول:وبالله التوفیق منشاء غلط منی آرڈر کو قرض محض بے عقد اجارہ سمجھناہے،متبوع نے اجمالًا اس کا دعوٰی کیا،تابع نے اس پر دودلیلیں قائم کیں مگر حقیقت امر سے بیگانگی رہی،بات یہ ہے کہ منی آرڈر کرنے میں دو قسم کے دام دئے جاتے ہیں، ایك وہ رقم جو مرسل الیہ کو ملنی منظور ہے،دوسرا محصول مثلا دس روپے دو آنے اور جس طرح ہر عاقل فقیہ پر واضح کہ یہ پہلے دام اگر بعینہٖ پہنچائے جاتے جیسے پارسل میں تویہ خاص اجارہ ہوتا یا یوں ہوتا کہ مرسل بعینہٖ انھیں کاپہنچانا چاہتا اور ڈاك والے ان داموں کے یہاں رکھ لینے اور وہاں ان کی نظیر دینے کا ضابطہ مقررنہ کرلیتے بلکہ کبھی بعینہٖ انھیں کو پہنچاتے۔کبھی بطور خود انھیں یہاں رکھ کر مرسل الیہ کو وہاں کے خزانے سے دیتے تو بھی محض اجارہ رہتا اور صورت خلاف میں ان اجیروں کافعل ناجائز ہوتا جس کا الزام مستاجر پرکچھ نہ تھا،ہاں اتنا ہوتاکہ وہ بوجہ تصرف امانت غاصب ٹھہر کر مستحق اجرنہ رہتے۔
|
کما فی الہندیۃ عن التتارخانیۃ لواستاجر لیحمل ھذہ الدراہم الی فلان فانفقہا فی نصف الطریق ثم دفع مثلہا الی فلان فلا اجرلہ لانہ ملکہا باداء الضمان [1]۔ |
جیسا کہ ہندیہ میں تاتارخانیہ سے منقول ہے کہ اگر کسی دوسرے تك معینہ دراہم پہنچانے کے لیے اجیر بنایا تو اس نے آدھے راستے میں وہ دراہم خرچ کرلیے اور مرسل الیہ کو ان دراہم کی مثل اور دے دئے تو وہ اجرت کا مستحق نہ ہوگا کیونکہ خرچہ کردہ دراہم کا ضمان دے کر وہ ان کا خود مالك بن گیا۔(ت) |
مگر جبکہ یہ امساك عین ودفع مثل ضابطہ معلومہ معہودہ ہے کہ واضعان قانون ڈاك نے اپنی آسانی کے لئے وضع کیا اگرچہ مرسل کو اس سے کچھ غرض نہ تھی اس کا مطلب بعینہٖ روپیہ بھیجنے میں بھی بداہۃً حاصل تھا تاہم بوجہ ضابطہ وتعارف جبکہ عاقدین کو وصول بدل معلوم تو یہاں تحقق معنٰی قرض ماننا غلط نہیں اگرچہ عاقدین بلفظ قرض تعبیر نہ کریں۔
|
فان العبرۃ للمعانی والمعہود عرفا |
کیونکہ معا نی کا اعتبار ہے اور عرف میں معین معلوم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع