30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روپے جو منافع کے بکر کو ملے وہ بھی حرام ہیں کہ دیہات کا ٹھیکہ جس طرح رائج ہے محض حرام ہے۔جتنے پر ٹھیکہ دیا گیا اگر اس قدر نشست ہوئی اور وہ مالك کو دے دی گئی،تو اس کےلئے حلال ہے کہ اس کی ملك کا نفع ہے۔اوراگر اس سے کم ہوئی اور مستاجر کو وہ رقم اپنے پاس سے پوری کرنی ہوئی تو یہ زیادت مالك کوحرام ہے،اس کا حق اسی قدر ہے۔جس قدر نشست ہوئی،مثلا پندرہ سو کو ٹھیکہ اور کسی سال ہزار ہی بیٹھے تویہ ہزارہی مالك کو حلال ہیں،رقم قرارداد پوری کرنے کو پانچ سو اگر اورلے گا وہ حرام ہونگے اور اگر کسی سال دوہزار روپے بیٹھے اور مستاجر مالك کو صرف پندرہ سو دے گا پانسو خودلے گا،یہ پانسو ا س کا حرام ہیں۔
|
فان ہذہ اجارۃ علی استہلاك العین و ما الاجارۃ شرعا الا تملیك المنافع فکل اجارۃ وردت علی الاعیان فہی باطلۃ وحرام الاماخصہ النص وھوا جارۃ الظئر و المسئلۃ مصرح بہا فی کثیر من الاسفار کالفتاوی الخیریۃ والعقود الدریۃ والدرالمختار وردالمحتار۔ و اﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کیونکہ یہ عین چیز کے تلف پر اجارہ ہے جبکہ شرعًا صرف منافع کی تملیك پراجارہ ہوسکتاہے تو ہر ایسا اجارہ جو عین چیز کو تلف کرنے پرواقع ہو وہ باطل اورحرام ہے الاوہ کہ شرع نے اس کوخاص طورپر مشروع کیا ہو جیسے دایہ کو دودھ پلانے کے لئے اجارہ پر رکھنا،اور یہ مسئلہ بہت سی کتب میں تصریح کردہ ہے جیسے فتاوٰی خیریہ،عقود الدریۃ،درمختار اور ردالمحتارمیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
___________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع