دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 19 | فتاوی رضویہ جلد ۱۹

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۹

لیناچاہتاہوں عمرو پر اعتبار نہیں رہا،بہتریہ کہ میں ٹھیکہ چھوڑد وں،پیشگی جو پندرہ سو روپیہ میں نے دیا ہے وہ دے دومیں تجارت میں لگادوں،زیدنے کہا کہ میں ٹھیکہ چھڑانا نہیں چاہتا،اور تم جانتے ہو کہ میں نادار ہوں،زرپیشگی بھی یکشمت ادانہیں کرسکتا،زید وبکر دونوں متردد ومشوش تھے،ایك رئیس مسلمان سنی وحنفی نے بطور ثالث یہ فیصلہ تجویز کیا کہ ٹھیکہ چھڑالیا جائے،او رپندرہ سو روپے قسط بندی کرکے چار سال میں ادا کردئے جائیں بکر کے اطمینان کو دستاویز ہوجائے،اور ایك گاؤں مکفول کردیا جائے بجز اس کے کہ اس وقت منافع کا کچھ ذکر بکر نے نہیں کیا،ثالث کی تجویز کو زید وبکر دونوں نے بحلف منظور کرلیا،ہفتہ کے بعد ثالث کے روبرو زید سے بکر نے دستاویز کا مسودہ مانگا۔اس وقت زید سے بکر نے کہا کہ اگر اس وقت پندرہ سو روپے دو تو میں لے لوں اور تجارت میں لگادوں اور چار سال میں اگر روپیہ ادا ہوا تو منافع لوں گا،زید نے کہا منافع کیساکبھی ا س کا ذکر نہیں ہوا،اور نہ ثالث کے روبرو ذکرآیا،محض پندرہ سو روپے کی ادائیگی ٹھہری،بکر سود خوا ر نہیں ہے،مگر جاہل ہے،مفسدوں نے اس کو سمجھادیا کہ یہ ٹھیکہ کا منافع ہے سو دنہیں ہے،بکر نے کہا کہ قبل ٹھیکہ ہونے کے مبلغ ڈھائی سو روپیہ کو ہم کو چھوٹ دیا گیا ہے۔زید نے کہا نہیں میں نے ایك گاؤں میں کل(عہ مہ /)چھوٹ دیاہے۔زید نے بکر سے پوچھا کہ میری تمھاری بالمشافہ گفتگو ہوکر چھوٹ دی گئی ہے۔بکر نے کہا کہ نہیں مجھ سے عمرو نے کہا ہے،زید نے کہا کہ عمرو کو یقین تھا کہ ٹھیکہ ہوجانے کے بعد میں ضرور نوکر رکھ لیا جاؤں گا،اس طمع پر بکر نے جھوٹ کہہ دیا کہ ڈھائی سو روپے چھوٹ دے کر پندرہ سو روپے ٹھیکہ ہوتاہے۔زید نے عمرو سے دریافت کیا کہ ڈھائی سو روپے چھوٹ کیونکر دی گئی،عمرو نے جواب صاف نہ دیا،زید نے چھوٹ کا اقبال نہ کیا،بکرنے کہا ہم منافع ضرورلیں گے،زید نے دستاویز لکھ دی،پندرہ سوروپے اصل اور چار سو منافع ٹھیکہ،زید وبکر پابند شریعت ہیں،بدعہدی اور منہیات شرع سے بچنا چاہتے ہیں نیك نیتی سے یہ دریافت کیا جاتاہے کہ پندرہ سو روپے کے علاوہ جو بنام منافع ٹھیکہ چار سوروپیہ جو درج دستاویز ہوا ہے یہ جائز ہے یاسود ہے ؟ شرح وبسط کے ساتھ جواب عنایت ہو،بینوا توجروا

الجواب:

صورت مستفسرہ میں وہ منافع قطع سود اور حرام ہیں۔حدیث میں ہے:کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا [1]قرض سے جو نفع حاصل کیا جائے وہ سو دہے۔بلکہ اس ٹھیکے کے دو سوبرسوں میں سات سو


 

 



[1] کنزالعمال حدیث نمبر ۱۵۵۱۶ مؤسستہ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن