30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لے کے ٹھیکہ پھر یہ اس نے انتظام اپنا کیا سب دکانوں کا کرایہ اس نے زائد کرلیا
پس یہ زائد جو اسے حاصل ہواہے اس سے زر اس کے استعمال میں ہے فائدہ یا کچھ ضرر
اگر اس شخص کو ٹھیکہ سے کم آمد ہوئی او رپوری کردی اس نے پاس سے اپنے کمی
اس کمی کا لینا کیا مالك کو جائز ہوگیا اس میں جو حکم شریعت ہو مجھے دیجئے بتا
الجواب:
جتنی اجرت پر کہ مستاجرنے لی مالك سے شے ا سے زائد پر اٹھانا چاہے تو یہ شکل ہے
اپنا کوئی مال جو قابل اجارہ کے ہوئے اس کو اسی شیئ سے ملاکر دونوں کو ایك ساتھ دے
یازیادت شیئ میں کردے مثل تعمیر مکان کھونٹیاں کہگل کنواں چونہ مرمت ایں وآں
یا بدل دے جنس اجرت جیسے وہاں ٹھہرے روپے اس کے یاں آنے میں گوبدلے میں لے ان کے روپے
یا کوئی کام اپنے ذمہ کرلے اس ایجار میں تازیادت اس عمل کے بدلے ہو اقرار میں
جیسے جاروب دکان اصلاح اسباب دکاں اور جو خدمت کے ہو شایاں اجرت بے گمان
اور اگر یہ کم پہ دیتا ہے تو دے مختار ہے مالك اُجرت پوری لے گا اس سے جو اقرار ہے
یوہیں خالی ڈال رکھتا جب بھی تو لیتاوہ دام
اب کمی سے کیا اسے واﷲ اعلم والسلام
مسئلہ ۲۲۷: مرسلہ نجم الحسن صاحب ا ز تحصیل بسواں ضلع سیتاپور ۱۵ صفر المظفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وبکر وعمرو تینوں سنی حنفی پابند صوم وصلوٰۃ ہیں زید زمیندار، بکر تاجر،عمرونوکری پیشہ،زید کا عمرو قرابت دارہے،اور بکر کا دوست،عمرو کی معرفت زید وبکر میں یہ معاملہ ہوا کہ زید نے اپنے دوگاؤں پندرہ سو روے سالانہ پانچ سال کے لئے بکر کو ٹھیکہ دیا،بکر نے پندرہ سو روپے بلا سودی پیشگی زیدکو دئے جس کی ادائیگی سال اخیر میں قرار پائی،بکر نے عمرو کو نوکر رکھ لیا،اور گاؤں کی تحصیل وصول سپرد کردی،بروقت ٹھیکہ ہونے کے زید وبکر میں یہ حلف ہوا کہ ایك دوسرے کے نقصان کا روادار نہ ہوگا،او ر کبھی کسی مفسد یامخالف کی دراندازی پرفریقین عمل نہ کریں گے،دو سال دونوں گاؤں بکر کے ٹھیکہ میں رہے،اور قریب قریب سات سو روپے کے منافع ہوا،عرصہ کے بعد زید وبکر کو عمرو کی چالاکی وبدنیتی عمرو کے افعال واقوال سے ثابت ہوگئی،دونوں کو یقین ہوگیا کہ عمرو نے ضرور نقصان پہنچایا،اور پہنچائے گا،زید وبکر میں اتفاق ہے،زید سے بکر نے کہا کہ میں گاؤں کاکام نہیں کرسکتا کیونکہ عمرو سے کام نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع