30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صور ت مستفسرہ میں فیصلہ بحق مدعیہ ہونا سراسر ناجائز وواجب الرد ہے۔اورعقد مذکور شرعا کوئی عقد ہی نہیں،ہر گز نہ اجارہ صحیحہ نہ فاسدہ بلکہ محض باطل ومسترد ہے۔اس وقت فریقین فتوٰی کے کلام و تحریرات فقیر کے پیش نظر ہیں،اگر ان کے مدارك کی طر ف تنزل کیا جائے تو دونوں باوقعت فریق سے معارك فقہیہ میں بہت کچھ کہناہوگا۔مگر فضول وبے اصل امر میں اضاعت وقت کی حاجت نہیں صحیح فاسد ہونے میں خودغورو بحث کا موقع تو اس وقت بے شرعا وہ کوئی عقد بھی ہو،یہاں سوا ہو اکے عقد کانام بھی نہیں محض باطل وبے حقیقت ہے۔تو سرے سے دعوی مدعیہ اصلا قابل سماعت نہیں بلکہ لائق التفات ہی نہیں،فیصلہ اس کے حق میں صادر ہونا کیا معنی۔
اصل یہ ہے کہ دیہات کایہ ٹھیکہ جو آج کل ہندوستان کثیر الجہل والطغیان میں جاری ہےکہ زمین دیہیہ مزارعین کے اجارہ میں رہتی ہے اور توفیر ومحاصل کٹکنہ دار کے اجارہ میں دئے جاتے ہیں اور یہی صورت اس مسئلہ دائرہ میں واقع ہوئی(جس پر پٹے کے الفاظ کہ نکاسی اس قد رہے۔کٹکنہ دار آسامیوں سے تحقیق کرلے۔اور تجویز حاکم کے الفاظ کہ سرکار میں دستور ہے۔اول رقبہ و تعداد قلبہ قائم کرکے الٰی آخرہ دلیل ورشن ہے محض ناجائز وباطل ہے علماءتصریح فرماتے ہیں کہ اس صورت کے بطلان پر ہمارے علماء کا اجماع ہے۔اس کا فانی ومعدوم کردینافرض ہے۔نہ کہ باقی رکھنا،کٹکنہ دار کا قبض فورا ٹھا دینالازم ہے۔یہ عقد کالعدم ہے محض بے اثر ہے۔
فقیر غفر اﷲ تعالٰی لہ نے اس مسئولہ کی تحقیق روشن اپنے فتاوٰی میں ذکر کی،یہاں چند نصوص علمائے کرام ذکر کروں کہ مولٰی عزوجل چاہے تو تنبیہ غافلین وایقاظ نائمین وہدایت مسلمین ہوں۔
امام علامہ خیر الملۃ والدین رملی اپنے فتاوٰی"خیریہ لنفع البریہ"میں فرماتے ہیں:
|
ان کانت الاجارۃ وقعت علی اتلاف العین قصدا فہی باطلۃ کما صرحت بہ علماؤنا قاطبۃ وصارکمن استاجر بقرۃ لیشرب لبنہا لاتنعقد فاذ استاجر زید القری و المزارع والحوانیت لاجل تناول خراج المقاسمۃ او خراج الوظیفۃ فالاجارۃ باطلۃ باجماع علمائنا و الباطل یجب عدامہ |
اجارہ جب قصدا عین چیزکے تلف کرنے پر ہو تو باطل ہے جیسا کہ ہمارے تمام علماء نے تصریح کی ہے اوریہ گائے کو دودھ پینے کے لئے اجارہ پر لینے کی طرح ہوگا جوناجائز ہے تو جب زید دیہات،باغات،زمینوں اور دکانوں کو وہاں سے حاصل ہونے والے ذرائع آمدن کو حاصل کرنے کے لئے ٹھیکہ پر لے تو ہمارے علماء کے مطابق یہ اجارہ باطل ہے جبکہ باطل کو ختم کرنا ضروری |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع